خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 152
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 152 سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی ہے کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم ورحیم۔حیاوالا۔صادق وفادار۔عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه: ۲۲۲ ۲۲۳) فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء عباد الرحمن کا یہ گروہ جس کے سر پر ہمارے آقا ومولیٰ حضرت رسول اکرمﷺ کھڑے ہیں رحمانیت اور ربوبیت کی صفات میں اپنے رب رحمن سے ایسی مشابہت اختیار کر لیتا ہے کہ کلی طور پر بنی انسان کے حق میں انہیں ربوبیت اور رحمانیت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔رب رحمن کے فیوض کا دودھ انہی کی چیخوں اور آہ و پکار کے اترتا ہے اور انہی کے واسطے سے اہل طلب میں بٹتا ہے اگر ان کی دعا ئیں نہ ہوتیں تو بلا شبہ یہ دنیا فیوض روحانی سے عاری رہ جاتی اور بنی نوع انسان کی سیرابی اور احیاء کے لئے کوئی پانی آسمان سے نہ اترتا اور دنیا ایک ایسے ہولناک صحرا میں تبدیل ہو جاتی جس پر مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي (الفرقان : ۸۷) کی پر ہیبت حکومت طاری ہوتی۔پس لاکھوں درود ہوں اس محسن اعظم پر جس کی ربوبیت تمام بنی نوع انسان اور تمام زمانوں کے لئے عام ہوگئی اور وہ مربی اعظم بنا۔لاکھوں درود ہوں اس محسن اعظم پر جس کی رحمت نے ایسا جوش مارا کہ قیود زمانہ اور حدود شرق و غرب سے آزاد ہو گئی اور وہ خدائے رحمن کے ہاتھوں رحمۃ للعالمین کے منصب پر فائز کیا گیا۔لاکھوں درود ہوں اس محسن اعظم پر جس کی گریہ وزاری آسمان کی رفعتوں سے قرآن کا دودھ کھینچ کر لائی اور جسے رحمتوں کا نہ ختم ہونے والا کوثر عطا کیا گیا۔بخدا اگر اس کی دعائیں نہ ہوتیں تو یہ دنیا ویران ہو جاتی اور عالم روحانیت میں ہر طرف خاک اڑتی پھرتی۔اگر اس کی دعائیں نہ ہوتیں تو آج اس خطہ ارض سے زندگی کا نشان مٹ چکا ہوتا۔اگر اس زندہ کرنے والے کی ، اس میحی کی دعائیں نہ ہوتیں تو یہ دنیا خاک کے تو دوں اور بے روحوں کے چلنے پھرنے والے لاشوں کی دنیا بن جاتی۔اسلام کا زندگی بخش انقلاب اسی کی دعاؤں کے طفیل آیا اور اسی کی دعاؤں کے طفیل دلوں نے اسے قبول کیا لیکن یہ ماجرا میری ناچیز اور حقیر اور عاصی زبان سے سننے کے لائق نہیں۔سنو اور غلام احمد کی پاک زبان سے احمد