خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 151

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 151 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء (المائدة: ۲۶) کہ اے میرے رب! مجھے تو اپنی تنہا جان اور ایک بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں۔پس تو ہی ہے جو ہمارے اور فاسقوں کے درمیان تفریق کر کے دکھا۔سوز و گداز کا ہونا بھی ضروری ہے اور آنسوؤں اور دعا کا ایک ایسا فطری اور ازلی جوڑ ہے جسے تو ڑا نہیں جاسکتا إِنَّمَا أَشْكُوا بَثْى وَحُزْنِی إِلَى اللهِ (یوسف: ۷۸) کا دلگد از فقرہ ایسی پر درد حقیقت کی طرف اشارے کر رہا ہے اور بچے کی چیخ و پکار پر ماں کے سینے میں جذبات رحم کا متلاطم ہو جانا بھی اسی کی سچائی کی ایک دلیل ہے۔اسی طرح عبدا اور معبود کے مابین بھی سوز وگداز میں ڈوبی ہوئی دعا الفت و جذب کی نہایت قوی لہریں دوڑا دیتی ہے جو قبولیت دعا کا موجب بنتی ہے۔حضور علیہ السلام اس عجیب کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں۔کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں۔تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ کہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جبکہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور