خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 130
نقار میر جلسه سالانه قبل از خلافت 130 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء ہیں۔کبھی خدام الاحمدیہ کے ہال کی تعمیر ہورہی ہے اور کہیں وقف جدید کا مرکزی دفتر بن رہا ہے اور کبھی فضل عمر فاؤنڈیشن کے نام پر ایک عظیم الشان رفاہی منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔یہ قطار اندر قطار مالی قربانی کا مظاہرہ اسی پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ کمانے والے ان سب چندوں کی ادائیگی کے بعد جب اپنی بیویوں کو خرچ دیتے ہیں تو وہ بھی حسب توفیق ان سب چندوں میں شامل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔پھر یہ قطار اندر قطار مالی قربانی کا مظاہرہ اسی پر ختم نہیں ہو جاتا۔بلکہ وہ چند پیسوں یا آنوں یا روپوں کے چھوٹے چھوٹے جیب خرچ جو مائیں اپنے بچوں کو دیتی ہیں وہ بچے بھی ان میں سے ایک حصہ اپنے رب کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔دنیا والے ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں کو حقیر نہ جانیں کہ خدا کی نگاہ میں ان کی بڑی قیمت ہے۔ان چھوٹے چھوٹے سینوں میں اللہ اور رسول کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے والے عظیم دل چھپے ہوئے ہیں۔ان ننھے منے بچوں میں ایسے مجاہدین اسلام بھی ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی شوق کی گردن پر چھری رکھ دی اور سالہا سال کی جمع شدہ پونجیاں دین محمدی کی خاطر خلیفہ وقت کے حضور پیش کر دیں اور جب خلیفہ وقت نے اسے قبول کرنے میں تامل کیا تو مچل گئے اور بضد ہوئے اور نہ ملے جب تک ان کی قربانی قبول نہ کی گئی۔پھر ان میں سے ایسے بھی ہیں، جنہوں نے مہینوں پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنی کجیاں بھریں اور جب وہ بھر گئیں اور بوجھل ہوگئیں تو ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ خلیفہ وقت وقف جدید کی مالی امداد کے لئے احمدی بچوں کو بلا رہا ہے۔یہ آواز انہوں نے سنی اور اپنے شوق کو یہ دیکھنے تک کی مہلت بھی نہ دی کہ یہ ان کے مہینوں کے صبر اور قربانی کا ثمرہ تھا۔وہ بند کی بند کجیاں انہوں نے خلیفہ وقت کے حضور پیش کر دیں کہ جو کچھ بھی ان میں ہے وہ ہمارا نہیں خدا کا ہے۔پس خدا ہی کی راہ میں اسے خرچ فرمائیں۔اے ابنائے آدم ! اور اے معشر جن وانس ! یہ وہ بچے اور وہ مائیں اور وہ باپ اور وہ جوان اور وہ بوڑھے ہیں، جو احمدیت نے مخلوق خدا کی بہبودی کی خاطر قربانی کے میدانوں کی طرف نکالے ہیں اور وہ خیر امت ہے جو محمد عربی کی قوت قدسیہ نے اس زمانہ میں پیدا کی ہے۔اے امریکہ اور اے یورپ اور جاپان کے دولت مندو! اور چین اور روس کی عظیم مملکتوں کے فرماں رواؤ! کیا احمدی بچوں کی ان معصوم قربانیوں سے بڑھ کر بھی کوئی قیمتی دولت تمہارے خزانوں میں ہے؟ سنو! تمہاری سب دولتیں اور تمہارے سب خزائن اور دفینے دنیا کی زینت ہی تو ہیں اور دنیا ہی کی بھٹی میں جل کر