خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 129

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 129 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء جماعتوں کے احیائے نو کے لئے اور ان کی دینی معیار کو بلند کرنے کے لئے جو انجمن وقف جدید کے نام سے جاری کی گئی ہے، اپنے بچے ہوئے مال میں سے ایک حصہ وہ اس انجمن کو چلانے کے لئے پیش کر دیتا ہے۔اس کے بعد جو بیچ رہتا ہے وہ بھی سب اس کا نہیں ہو جا تا بلکہ اگر وہ نوجوان ہے تو نوجوانوں کی انجمن مجلس خدام الاحمدیہ کے اخراجات چلانے کے لئے بھی چندے دیتا ہے اور اگر وہ چالیس سال سے متجاوز ہے تو مجلس انصار اللہ کی خدمت میں دینی کاموں پر خرچ کرنے کے لئے اپنے اموال کا ایک حصہ پیش کر دیتا ہے اور اگر وہ عورت ہے تو لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے اخراجات چلانے کے لئے وہ اپنے مال کا ایک حصہ اس مجلس کی خدمت میں پیش کر دیتی ہے۔پھر جو بچ رہتا ہے وہ بھی سب اس کا نہیں ہو جاتا کیونکہ تعمیر مساجد کے لئے بھی اس سے مالی قربانی کا مطالبہ ہوتا ہے اور مختلف زبانوں میں تراجم قرآن مجید شائع کرنے کے لئے بھی پھر اسی سے مالی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔پھر جو بچ رہتا ہے وہ بھی سب اس کا نہیں ہو جاتا کیونکہ اس کے سامنے اپنے رب کے یہ احکام بار بار پڑھے جاتے ہیں کہ (الذاریات: ۲۰) یعنی خدا کے بندوں کے اموال میں سوالیوں اور محروموں کا بھی حق ہے۔پس خدا کے یہ عجیب بندے اپنے اموال میں سے دن رات صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں۔خفیہ طور پر بھی اور ظاہری بھی۔چھپ چھپ کر بھی اور اعلانیہ بھی۔پھر جو بچ جاتا ہے وہ سب بھی ان کا نہیں ہوجاتا کیونکہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ دینی علم کے بغیر خدمت دین کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔اس لئے قرآن وحدیث کے مطالعہ پر خرچ کرو، امام الزمان کی کتب پر خرچ کرو ،خلفائے سلسلہ کی تحریرات خرید و تفسیر صغیر پڑھو اور تفسیر کبیر کا مطالعہ کرو، بزرگان سلسلہ کی کتابوں سے استفادہ کرو۔الفضل سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ترجمان ہے، اس کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔نوجوان ہو تو خدام الاحمدیہ کے ترجمان خالد کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے۔انصار اللہ کے رکن ہو تو انصار اللہ کا مطالعہ تمہارے لئے از بس ضروری ہے۔لڑکی یا عورت ہو تو خواتین کا رسالہ ” مصباح“ کے بغیر تمہاری معلومات مکمل نہیں ہوسکتیں۔پس اپنے بچے ہوئے اموال میں سے خدا کے یہ عجیب بندے ماہ بماہ اور سال بہ سال ان دینی کتب اور رسائل کی خرید پر بھی روپیہ صرف کرتے ہیں۔پھر جو بچ رہتا ہے، وہ بھی سب ان کا نہیں ہو جاتا۔بلکہ گاہ بہ گاہ خدا کے نام پر خرچ کرنے کی اور راہیں بھی ان پر کھولی جاتی