خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 120

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 120 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء ہوتا ہے اور دنیا کے کونے کونے تک اس کی ترسیل کا انتظام کرتا ہے۔یہی وہ نظام ہے جسے اسلامی اصطلاح میں " نظام خلافت کہا جاتا ہے اور جس کے بغیر دینی اقدار کی کما حقہ حفاظت ناممکن ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سے آج تک کی اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ نظام خلافت کا ہاتھ سے جاتا رہنا ہے۔یہ صرف اسلام کا المیہ ہی نہیں بلکہ فی الحقیقت اسے چودہ سو سال میں تمام بنی نوع انسان کا سب سے بڑا المیہ کہنا چاہئے کیونکہ دنیا کی اکثریت کی اسلام سے محرومی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اسلامی نظام خلافت کی برکات سے محروم ہے۔یہ نظام چونکہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور ارادہ سے قائم ہوتا ہے اس لئے تا وقتیکہ آسمان پر خدا اس نظام کو از سر نو قائم کرنے کا فیصلہ نہ فرمائے صرف انسانی ہاتھوں کے ذریعے اس کا قیام ناممکن ہے۔پس اس المیہ کے بعد جو گزر گیا خدا تعالیٰ کا عظیم ترین فضل بھی یہی ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما کر خلافت راشدہ اسلامیہ کو دوبارہ قائم فرمایا: (الجمعه: ۵) آج اسلامی اقدار کی حفاظت اور ادیان باطلہ پر اسلام کے غلبہ نو کا انحصار اسی نظام کی کامیابی اور استحکام پر ہے۔اس کی مثال ایک شجرہ طیبہ کی سی ہے جو ہر آن میٹھے پھل دنیا کو کھلاتا ہے اور کسی موسم میں بے فیض اور بے ثمر نہیں رہتا۔یا پھر یہ ایک روحانی جنت کی طرح ہے جس کے گھنے سایوں تلے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی نہریں بہتی ہیں اور روحانی فیوض کے اثمار سے اس کی شاخیں لدی ہوئی ہیں۔خلافت راشدہ کا نظام وہ جزا ہے جو تو حید پرستوں کو اسی دنیا میں عطا ہوتی ہے اور آسمان پر ایک خدا کو ماننے والے زمین میں ایک ہاتھ پر ا کٹھے ہو کر وحدت ملی کی ایک دل کش تصویر پیش کرتے ہیں۔خلافت راشدہ کا نظام اعلان عام ہے اس از لی اور ابدی سچائی کا کہ خدائے واحد نے اپنے بندوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خلافت راشدہ کے قیام کے بغیر حقیقی تو حید کا قیام ممکن نہیں چنانچہ قرآن کریم میں توحید خالص کو قیام خلافت کے پھل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔جیسا