خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 121

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 121 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء کہ مسلمانوں کو عطائے خلافت کا وعدہ دیتے ہوئے اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: (النور: ۶۵) یعنی خلافت راشدہ کے استحکام کے ساتھ قیام توحید کے لئے وہ ساز گار فضا پیدا ہوگئی ہے کہ تم خالصہ میری عبادت کرنے لگو گے اور کسی دوسرے کو میرا شریک نہ ٹھہراؤ گے۔خدا تعالیٰ نے قیام احمدیت کے ذریعہ یہ عظیم الشان نظام دنیا کو از سر نو عطا فرمایا جو دراصل آج اہل اسلام کے لئے نئی زندگی کا ایک پیغام ہے اور ان پر جو اسلام کی چاردیواری سے باہر ہیں اسلام کے دروازے ایک مادر مہربان کی آغوش کی طرح وا کر رہا ہے۔نظام خلافت کے خدوخال ایک مرکزی نقطہ حیات یعنی خلیفہ اسیح کے گرد فدایان اسلام کی ایک جماعت اکٹھی ہے جو خدمت اسلام کے لئے اس کی ہر آواز پر سَمْعاً وَّطَاعَةً سمعاً وطاعۂ کے سوا کچھ کہنا نہیں جانتی جو نیکی کی راہیں وہ انہیں دکھاتا ہے، وہ بڑی تیزی کے ساتھ ان پر قدم مارتی ہے اور دین محمدی کی جس خدمت کے لئے اسے بلاتا ہے وہ لبیک یاسیدی لبیک کہتی ہوئی اپنی جانیں اور اپنے اموال لئے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے۔وہ اس کے ایک ہاتھ پر اٹھنا اور ایک ہاتھ پر بیٹھنا جانتی ہے۔اسی لئے اپنی ہیئت مجموعی میں کثرت تعداد کے باجود ایک فرد واحد کی طرح زندہ ہے۔جس کی جان خلافت راشدہ میں ہے اور خلیفہ راشد اس کے لئے بمنزلہ دل کے ہے۔یہ دل قالب بدلتا ہے لیکن خود کبھی نہیں مرتا۔اس دل کے نام بدلتے ہیں، کام نہیں بدلتے۔یہ کبھی نور الدین کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے کبھی محمود کا لبادہ اوڑھے ہوئے اور کبھی ناصر احمد بن کر غلامان محمد کی قومی زندگی کے سینے میں دھڑکتا ہے اور خدا کرے کہ اسی طرح قیامت تک دھڑکتا رہے اور کبھی اس دل پر موت نہ آئے کیونکہ اسلام کی حیات نو اس دل کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی کی دھڑکن ہے جو مسلمانوں کے قومی وجود کے پور پور میں نبض آسا چلتی ہے۔صدر انجمن احمدیہ قرآن کریم متعدد مرتبہ نزول شریعت کی مثال آسمانی پانی سے دیتا ہے جو نازل ہوکر مردہ