خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 113

نقار میر جلسه سالانه قبل از خلافت 113 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء سنو ! امت عیسوی تو خود اپنی نجات اور بقا کے لئے آج غلام احمد کی محتاج ہوتی جاتی ہے: برتر گمان و و ہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه: ۲۸۶ حاشیه ) ہاں ! برتر ہے احمد کی شان ! وہم وگمان سے کہیں برتر والی !! کہ غلام احمد تو غلام احمد ہے۔آج امت عیسوی شربت وصل بقا کے لئے غلام ابن غلام ابن غلام احمد کی بھی محتاج ہے بلکہ اس کے غلاموں کی بھی محتاج فیض روحانی کے سب دھارے بس ایک ہی سمت سے ہر دوسری سمت کو بہتے ہیں۔پس لاکھوں سلام ہوں اس محسن اعظم پر جس کے وجود پر سب نعمتیں ختم ہوئیں اور اب ہر نعمت کا دینے والا وہی ایک فرماں روا ہے۔قرآن پر ایک خطر ناک حملہ اور اس کا دفاع قران کریم ہر شک سے بالا خدا تعالیٰ کا وہ غیر مبدل اور محفوظ کلام ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے آخری ہدایت کے طور پر نازل ہوا اور قیامت تک جس کا ایک شوشہ بھی ہرگز بدل نہیں سکتا۔لیکن گزرتے ہوئے وقت نے اس لا ریب اور بین کتاب کو بھی شکوک سے بھر دینے کی کوشش کی ہے۔غیروں نے جو حملے کئے ان کا تو ذکر ہی الگ ہے خود مسلمانوں میں رفتہ رفتہ یہ غلط خیال پھیل گیا کہ قرآن کریم کی بعض آیات اس کی بعض آیات کے ذریعے منسوخ ہو چکی ہیں۔بعض مفسرین قرآن تو ان منسوخ شدہ آیتوں کی تعداد پانچ سو تک بتانے لگے۔ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ جس کی فی الحقیقت اسلام میں کوئی بنیاد نہیں قرآن کریم پر ایک نہایت خطرناک حملہ کی حیثیت رکھتا تھا۔کیونکہ جو نہی یہ تسلیم کر لیا جائے کہ قرآن کریم میں بعض منسوخ شدہ آیات بھی شامل ہیں تو معا سارا قرآن ہی مشکوک ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ ایک مفسر کے نزدیک ایک آیت منسوخ ہوسکتی ہے اور دوسرے کے نزدیک دوسری اور تیسرا ایک تیسری آیت کو منسوخ سمجھ سکتا ہے غرضیکہ قرآن محفوظ ایک ایسی غیر محفوظ کتاب میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی سینکڑوں آیتیں نسخ کا شکار ہیں۔افسوس یہ ظالمانہ سلوک اس کتاب سے کیا گیا کہ جس کی ابتداء ہی اس دعوی سے ہوئی تھی