خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 112
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 112 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء کہ خود اپنے عقیدوں کی رو سے انصاف بتاؤ کہ حسن اعظم کون ہیں؟ وہ جوا نہیں سو سال سے آسمان پر بیٹھا اس گھڑی کا انتظار کر رہا ہے کہ امت محمدیہ نا قابل حل مسائل میں الجھ جائے تو ان گنتھیوں کو سلجھانے کے لئے آسمان سے نازل ہو یا وہ جو اپنی امت کو ایسے حال میں چھوڑ کر چلا گیا کہ فتنوں کے دروازے تو کھلے رہے لیکن فتنوں سے بچانے والے آسمانی پہلوانوں کی راہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی۔وہ بجاطور پر مسلمانوں سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ جب امت محمدیہ کو خطرناک اندرونی اختلافات کا شکار ہونا تھا تو بتاؤ تو سہی کہ حکم اور عدل کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے کے لئے کون آئے گا ؟ اور بتاؤ تو سہی کہ جب دجال نے کل عالم کو تاخت و تاراج کرنے کے لئے خروج کرنا تھا اور سب مذاہب کو ملیا میٹ کرتے ہوئے بالآخر اسلام کی شہ رگ پر بھی تبر رکھ دینا تھا تو کون سا آسمانی پہلوان آسمان سے اتر کر اس امت مرحومہ کو بچائے گا؟ پھر وہ کون ہوگا جو اپنی آسمانی تلوار سے دجال کی گردن اڑائے گا اور ایک ایسے فتنے سے دنیا کو نجات بخشے گا جس سے بڑا فتنہ اس سے پہلے کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا ان کا کوئی امتی غلام؟ اگر نہیں تو پھر کیوں اعتراف حق نہیں کرتے اور کیوں بآواز بلند نہیں کہتے کہ عیسی ابن مریم ، ہاں عیسی ابن مریم۔حیف! اے علمائے اسلام! دیکھو اس عقیدے سے اسلام اور اسلام کی مقدس ہستیوں کی کیسی گستاخی لازم آتی ہے اور کس طرح یہ اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے والا ایک باطل نظریہ ہے جسے دین محمدی کی چار دیواری میں پینے کا کوئی حق نہیں۔احمدیت نے اس عقیدے کے چنگل سے اسلام کو نجات بخشی اور دنیا پر واضح کر دیا کہ امت محمد یہ اپنی اصلاح کے لئے کسی غیر نبی کی محتاج نہیں۔بلکہ ہر دوسری امت اپنی اصلاح کے لئے امت محمدیہ کی محتاج ہے۔احمدیت نے دنیا کو بتایا کہ فساد عظیم اور خروج دجال کے وقت کسی بنی اسرائیلی نبی نے نہیں بلکہ محمد ہی کے ایک غلام نے دنیا کو اس فتنہ عظیم سے نجات بخشنی تھی اور دجال کے سر کو براہین کی تلوار سے پاش پاش کرنا تھا۔احمدیت نے دنیا کو بتایا کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر دوسرے نبی کا فیض ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکاحتی کہ خود اپنی امتوں کو بھی اب وہ کوئی فیض روحانی نہیں پہنچا سکتے۔پھر ممکن ہی کہاں ہے کہ ان میں سے کوئی حضرت محسن اعظم احمد عربی کی امت پر احسان کرے۔نہیں نہیں یہ امر ایک محال امر ہے۔بلکہ صورت حال بعینہ برعکس ہے۔