خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 111
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 111 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟ ۷۶۹۱ء خلاف عالمگیر سطح پر ایک عظیم الشان اور کامیاب جہاد کیا اور قرآن وحدیث پر مبنی محکم دلائل سے ثابت کر دیا کہ مسیح ناصری علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور جس مسیح کے آنے کی امت محمدیہ کو خوشخبری دی گئی تھی وہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے سابق مسیح نہ تھے بلکہ غلامان محمد ہی میں سے ایک ذی شان امتی کو بعض مشابہتوں کی بناء پر مسیح کا صفاتی نام دیا جانا تھا۔احمدیت نے دنیا پر ظاہر کیا کہ سراسر خلاف قرآن یہ عقیدہ سید ولد آدم کی شان میں کئی طرح سے گستاخی کا موجب ہے کیونکہ جیسا کہ مسلمان گمان کرتے تھے اگر واقعی ناپاک دشمن کی دست درازی سے اپنے پیارے مسیح کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی بلندیوں کی طرف اٹھالے گیا تو بجا طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس استثنائی محبت اور پیار کا سلوک کیوں نہ فرمایا ؟ آپ پر بھی تو ہولناک دکھوں اور مہیب خطرات کے وقت آئے تھے۔آپ پر بھی تو پتھراؤ کیا گیا، تیر چلائے گئے اور تیز دھار آلوں سے آپ کے معصوم بدن کو چر کے لگائے گئے۔پھر کیوں اپنے محبوب ترین نبی کے لئے اس خدا کی محبت جوش میں نہ آئی جس نے عیسی کے لئے دشمن کا وار برداشت نہ کیا اور اس کو زندہ آسمان پر اٹھالیا ؟ کیوں ہجرت کے وقت ان کو آسمان پر نہ اٹھالیا گیا بلکہ اس کے برخلاف ان کو پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لینی پڑی ؟ کیوں طائف اور احد اور حنین کے المناک سانحوں میں آسمان کے دروازے آپ پر نہ کھولے گئے ؟ اور کیوں اس دنیا میں اپنے دشمنوں کے درمیان گھرے رہے؟ کیا اس عقیدے کے حامل مسلمانوں سے عیسائی پادری یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتے کہ اے علماء اسلام ! بتاؤ اس استثنائی سلوک کو دیکھ کر عقل کیا فیصلہ دیتی ہے؟ کون خدا کو زیادہ پیارا تھا؟ وہ جسے میدان کارزار میں پیہم صدمات نے نیم جان اور بے ہوش کر دیا لیکن خدا کی محبت نے اسے آسمان کی طرف نہ بلایا یا وہ جس کی آہ و پکار سن کر آسمان نے اپنی آغوش محبت واکر دی۔فرشتے بلندیوں سے اترے اور سرحد ادراک سے بھی پرے چوتھے آسمان کی طرف اسے اٹھالے گئے۔افسوس که تاریک صدیوں میں اسلام کے اندر داخل ہو جانے والا یہ عقیدہ آج سے تقریباً نوے برس قبل کے زمانے تک پوری طرح اسلامی لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا اور اسلام کے لئے متعدد نقصانات کا موجب ہورہا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان افضلیت کو یہ کئی طرح کے صدمے پہنچارہا تھا لیکن مسلمان خواب غفلت میں پڑے تھے۔پھر ایک عیسائی یہ سوال بھی کر سکتا تھا