خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 110

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 110 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء سب نبیوں کو ختم فرما سکتے تھے۔اول ظاہری معنوں میں اس طریق سے کہ آپ کی بعثت کے بعد ہر وہ نبی جو زندہ ہوتا اس دار فانی سے کوچ کر جاتا اور اس طرح جسمانی لحاظ سے آپ کے وصال سے قبل ہی ختم ہو جاتا۔دوسرے روحانی معنوں میں اس طرح کہ آپ دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام کے روحانی فیض کو ہمیشہ کے لئے ختم فرما دیتے اور کسی گزشتہ نبی کی قوت قدسیہ سے کبھی کوئی فرد بشر کوئی روحانی فیض نہ پاسکتا۔یہاں تک کہ خودان کی امتیں بھی صرف اور صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دست نگر اور محتاج ہو جاتیں لیکن ظلم دیکھو کہ مسلمانوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے اور پھر امت محمدیہ میں نازل ہونے کے بارے میں جو عقیدہ گھڑ رکھا تھا وہ ان ہر دو معنوں سے عملاً آیت خاتم النبین کی تکذیب کرنے کے مترادف تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام خاتم النبین کی شان میں سخت گستاخی کا حامل تھا۔اس سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ ظاہری لحاظ سے ختم فرما سکے اور نہ باطنی لحاظ سے۔ظاہری لحاظ سے اس لئے نہیں کہ خود مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت تمام انبیائے گزشتہ میں سے صرف ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ایک نبی کو بھی مار نہ سکے اور وہ آپ کی زندگی میں تو کیا آپ کے وصال کے بعد بھی زندہ رہے اور آج تک زندہ سلامت موجود ہیں۔روحانی لحاظ سے اس لئے نہیں کہ فیض بھی ان کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے باوجود ختم نہ ہوسکا اور جاری رہا بلکہ وہ تو پہلے سے بھی بڑھ گیا۔اگر چہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل وہ صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور بنی اسرائیل ہی کی ایک بہت قلیل جماعت نے آپ کے وجود سے برکت پائی تھی لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد تو نعوذ باللہ ان کا فیض امت محمدیہ کی عالمگیر وسعتوں تک بھی ممتد ہو گیا اور آخری زمانہ میں جب اس امت کو ہولناک خطرات کا سامنا کرنا تھا تو اس کی نجات بھی حضرت مسیح کے دم قدم کی برکت سے ہی وابستہ کر دی گئی۔کیسا خوفناک یہ عقیدہ ہے جو مسلمانوں نے نا مجھی سے رفتہ رفتہ اپنالیا اور کیسی کاری ضرب اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت پر پڑتی ہے۔احمدیت نے اس سراسر غیر اسلامی اور حضور اکرم کی شان میں سخت گستاخانہ عقیدہ کے