خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 109

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 109 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء ایک ایک لمحہ سیراب ہوتا تھا۔لقاء اللہ صرف ایک وجود تک محدودنہ رہی اور اسلام کے خدا کی زندگی کی گواہی دینے والا محض تنہا نہ رہا۔وہ تنہا نہ رہا، بلکہ سید ولد آدم کے ان نقوش پا پر چل کر جن پر خود اس نے قدم مارے تھے سینکڑوں ہزاروں دوسرے بندگان خدا بھی اسی دنیا میں اپنے رب کو پاگئے۔وہ صاحب کشف والہام ہوئے۔قادیان کی بستی ایسے وجودوں سے بھر گئی اور اس کی طرف سے لقاء اللہ کی منادی کرنے والے منادی کرتے ہوئے اہل دنیا کی طرف نکلے۔انہی میں سے تھے جو صدیق کہلائے اور سراپا نور الدین بن گئے۔انہی میں سے تھے جو مصلح موعودؓ ٹھہرے اور کشف والہام کے مورد بنے۔انہی میں غلام رسول اور عبدالرحیم اور شیر علی پیدا ہوئے اور پھر انہی میں وہ ناصر الدین بھی ہیں جن کے ہاتھوں میں شربت وصل و بقا کے جام تھمائے گئے۔ہزار ہا مردوں نے بھی اسلام کے زندہ خدا کا مشاہدہ کیا اور ہزار ہا عورتوں نے بھی حتی کہ بچے بھی ان جلووں سے محروم نہ رہے اور جیسا کہ مخبر صادق نے خبر دی تھی ان کو بھی رویائے صادقہ سے مشرف فرمایا گیا۔پس احمدیت نے جو دنیا کو سب سے بڑا فیض عطا کیا وہ یہی لقاء الہی کا فیض تھا آج احمدیت کو چھوڑ کر وہ کونسی جماعت ہے جو رب العباد کو اس یقین اور قوی شہادت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے اور کہاں ہیں احمدیت کے سواوہ لوگ جو وصل الہی کے اس دنیا ہی میں دعوے دار ہوں اور زندہ براہین کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھتے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارفع مقام کی تنقیص اور اس غلطی کی اصلاح خدا تعالیٰ کے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ہے جن پر کامل اور پُر خلوص ایمان کے بغیر حصول نجات ممکن نہیں۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے بدلتے ہوئے عقائد نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارفع تصور کو بھی کامل نہ رہنے دیا۔وو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا مقام جس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ” مقام خاتم النبیین ہے۔لفظ خاتم کے بہت سے معانی ہیں لیکن اگرا سے بمعنی ختم کرنے والا لیا جائے تو ظاہر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو ہی طریق پر