خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 108
نقار بر جلسه سالانه قبل از خلافت 108 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء تعطل سے پاک ہے۔وہ اب بھی اپنے بندوں سے جو مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ (النساء :) کی شرائط پر پورا اترتے ہوں ہم کلام ہوتا ہے اور ان کو ان تمام انعامات سے نوازتا ہے، جو اس کے پہلے برگزیدہ بندوں کو ملتے رہے۔وحی والہام کے سلسلے کو جاری قرار دیتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے صرف نظریاتی دلائل پر ہی اکتفا نہیں فرمایا بلکہ خود اپنے وجود کو اس حقیقت کے ایک زندہ ثبوت کے طور پر پیش کیا۔آپ کا وجود ان لوگوں کے لئے ایک مجسم پینج بن گیا جو وحی والہام کے منکر تھے یا اسلام کو بھی نعوذ باللہ ان متروک مذاہب میں شمار کرنے لگے تھے جو ذات باری تعالیٰ سے منقطع ہو چکے ہیں۔آپ نے اپنے وجود کو ایک زندہ خدا کے زندہ ثبوت کے طور پر پیش کیا اور ایک عام منادی کے ذریعہ ابنائے آدم کو بھی اسی خدا کی طرف دوڑے چلے آنے کی دعوت دی، جس کے دیدار کی عجیب لذت آپ نے پائی تھی اور جس کے شیریں کلام کا رس تا دم آخر آپ کے کانوں میں گھلتا رہا۔آپ نے فرمایا: کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمے کی طرف دوڑو۔کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه: ۲۱۔۲۲) 19 اس صلائے عام کو سن کر سینکڑوں، ہزاروں لقاء الہی کے پیاسے دلوں کے پیالے لئے ہوئے آپ کی طرف دوڑے اور اسی سر چشمہ سے سیراب ہوئے جس سرچشمہ سے آپ کی زندگی کا