خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 660

خطابات نور — Page 57

(اٰل عمران :۳۲) یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الٰہی بن جائو تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔پس چونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کی ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی کلید اور وہ ہے اتباع بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔صحابہ کرام کو جو یہ حکم دیا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو اور محبوب الٰہی بننے کا جو یہ گُر ان کو بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علیحدہ علیحدہ ترقی نہیں کرسکتے اور نہ ترقی کرنے کا یہ اصول ہے کہ انفرادی طور پر ترقی کریں بلکہ انبیاء و رسل کے ماتحت ترقی کرنے کا اصل الاصول یہی ہے کہ سب کے سب اکٹھے ہوکر اس کی اطاعت اور نقش قدم پر چلنے میں ایسے فنا ہوں کہ اسی کا عکس اور نمونہ بننا چاہیں اور اس کے سایہ میں اس طرح پر جمع ہوجائیں جیسے مرغی کے پروں کے نیچے بچے جمع ہوجاتے ہیں۔انبیاء سے فیض کس طرح ملتا ہے: جو لوگ انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سیرت اور پاک لائف کو پڑھتے ہیں جو قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی پر نظر کرنے سے ملتی ہے۔کیونکہ آپ مجموعی طور پر کل نبیوں کی صفات اور کمالات کو لے کر آئے تھے اور جہاں ایک طرف آپ نوع انسان کے اکمل افراد میں سب سے اعلیٰ تھے اور سب کی خوبیوں اور کمالات کے جامع تھے وہاں کل دنیا کی اصلاح اور ہمیشہ تک کے لئے مصلح اور ریفارمر ہوکر آئے تھے۔اس واسطے جس قدر نبی دنیا میں گزرے ہیں یا جس قدر خوبیاں اور کمالات انسان میں انتہائی درجہ تک ہوسکتے ہیں وہ سب آپ میں موجود تھیں۔اس لئے آپ ہی کی لائف پر غور کرنا، کل نبیوں کی سیرت کو پڑھ لینا ہے مگر مجھے اس مقام پر پہنچ کر دل پر ایک ٹھوکر لگی ہے اور سخت درد محسوس ہوا ہے کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور لائف پڑھنے والے اور اس کو اسوہ بنانے والے بہت ہی کم ہیں۔مسلمانوں کا فرض تھا کہ آپ کی سیرت کو تدبر سے پڑھتے مگر انہوں نے نہیں پڑھا۔