خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 56 of 660

خطابات نور — Page 56

 (الحجرات :۳) یعنی یاد رکھو تم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو بلکہ تم اس کے ماتحت رہو۔اصل بات یہ ہے کہ ہر مجلس اور محفل کے کچھ آداب ہوتے ہیں اگر ان آداب اور مجلس سے قطع نظر کی جاوے اور پرواہ نہ ہو تو انسان بجائے اس کے کہ اس مجلس سے فائدہ اٹھاوے اور اس میں کوئی عزت حاصل کرے وہ اس سے نکالا جاتا ہے اور یا ان فوائد اور منافع سے محروم رہ جاتا ہے جو اس مجلس میں بیٹھنے والوں کو ہوتے ہیں۔دنیا کے حاکموں اور عہدہ داروں کے درباروں میں جائو تو تمہیں آگاہ کیا جاوے گا کہ وہاں کس طرح پر بیٹھنا ہے اور کس طرح ہونا ہے۔مکارم اخلاق کی کتابوں میں آداب مجلس اور آداب گفتگو وغیرہ وغیرہ جداجدا باب مقرر کئے ہیں۔اس لئے کہ اخلاق فاضلہ کے حصول کے واسطے آداب و قواعد کی پابندی ضروری ہے۔پر صاحب خلق عظیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی پاک مجلس سے سعادت اندوزی کے لئے کیا پابندیٔ آداب کی ضرورت نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔صحابہ کی کامیابیوں اور روحانی مدارج کی ترقیوں اور منازل سلوک کے طے کرنے کا اصل راز یہی تھا کہ انہوں نے فنا فی الرسول ہونے کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا اور وہ ایک دم کے واسطے بھی آپ کی اطاعت سے قدم باہر نکالنا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے قدم باہر نہیں رکھا۔اخلاص اور صواب: اعمال صالحہ کی حقیقت اسی لئے یہ بتائی گئی ہے کہ کوئی عمل عملِ صالح نہیں کہلاتا جب تک کہ اس میں دو شرطیں نہ پائی جائیں۔اوّل: یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فرمان کے موافق اور ماتحت ہو۔دوم : وہ اس طریق پر ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہے۔پہلی شرط کا نام اخلاص ہے اور دوسری کو صواب کہتے ہیں۔صحابہ نے اس راز کا پتہ لگالیا تھااس واسطے وہ وہی کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور اتباع کا رنگ رکھتا ہو کیونکہ انہوں نے یہ آداب الرسول کی آیتیں سنی ہوئی تھیں وہاں انہوں نے کلام الٰہی کو اس طرح پر بھی سنا تھا۔