خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 660

خطابات نور — Page 58

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم ہے اور قرآن کی طرف جو کچھ توجہ مسلمانوں کو ہے اس کے لئے یہ آیت بالکل صحیح ہے۔ (الفرقان :۳۱) قرآن شریف ہی آپ کی پاک سیرت ہے اور اسی کی طرف مسلمانوں کو توجہ نہیں باوجود یکہ وہ بہت ہی ذلیل حالت تک پہنچ گئے ہیں لیکن ابھی تک بھی وہ بیدار نہیں ہوئے اور اصل باعث جو ان کی تباہی اور ذلت کا ہے ان کو نظر انداز کرکے یورپ کی اتباع سے اور مغربی فلسفہ کو اسوہ بناکر مسلمان کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے اور ہرگز نہیں کرسکتے؟ ترقی کی ایک ہی راہ ہے اور وہ وہی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین نے اختیار کی تھی اور وہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنانا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کو اسوۂ حسنہ ٹھہرایا ہے۔(الاحزاب :۲۲) بات کچھ اور تھی اور میں اس سلسلہ میں ادھر چلا گیا۔میں نے ایسا عمدًا اور ارادۃً نہیں کیا یہ میرے دل میں ایک درد تھا اور ہے کہ مسلمان بلندی سے گرے ہیں اور پھر ابھرنے اور گڑھے سے نکلنے کے لئے گھاس پھوس کو ہاتھ مارتے ہیں اور اس مضبوط رسی کو جس کی بابت کہا گیا تھا۔(اٰل عمران :۱۰۴) چھوڑ بیٹھے ہیں اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔غرض انبیاء علیہم السلام سے فیض ملنے کی ایک ہی راہ ہوتی ہے اور وہ وہی راہ ہے جس کو قرآن شریف میں  (التوبۃ :۱۱۹) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو وہ ایک مشین یا َکل کی طرح ہوتا ہے۔جس قدر لوگ اس کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہیں وہ انفرادی طور پر ترقی نہیں کرتے بلکہ ان کا فرض ہونا چاہئے کہ اس سے ملے رہیں اگر وہ اس سے ملے نہیں رہتے تو وہ ترقی نہیں کرسکتے اور اس فیض کو جو اس سے ملتا ہے نہیں پاسکتے۔جس قدر لوگ محبوب الٰہی بننا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ اس کا ساتھ دیں اور اس کی سچی اتباع کریں۔ازالۂ وہم : بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ مامور کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی ہم کو کیا ضرورت ہے؟ ہم عقائد حقہ سے واقف ہیں اور اعمال صالحہ کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور ان کے پابند ہیں۔مگر یہ ان کا دعویٰ ہی دعویٰ ہوتا ہے اگر وہ اس سے واقف اور