خطابات نور — Page 582
میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ انسان اپنی فروج کی حفاظت سے بڑے نفع اٹھاتا ہے۔میں نے ۳۰۔۳۲ برس کی عمر میں شادی کی تھی اور میں ان مشکلات سے واقف تھا۔اس لئے میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ بچوں کی شادی جلدی کر دو۔میں نے اس سمندر کو تیر کر دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کس قدر مشکل ہے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچایا۔میر ی فطرت میں مطالعہ کتب کا شوق رکھ دیا۔اس شوق کی وجہ سے میرا کوئی دوست نہیں بن سکتا تھا کیونکہ میں بناتا ہی نہ تھا۔سمجھتا تھا کہ وقت ضائع ہوگا۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ منزل بڑی سخت ہے۔اس لئے تم اگر مومن ہوکر مظفر و منصور ہونا چاہتے ہو تو اپنی فروج کی حفاظت کر و اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ بامراد نہیں ہو سکتا۔پانچواں و چھٹا گُر اس کے بعد ایک اور مرتبہ ہے وہ ادائے امانت کا ہے انسان جب ان مدارج سے گزر جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اس کے شامل حال ہو جاتے ہیں۔لوگ امانت کے معنے صرف اموال تک محدود کرتے ہیں مگر مجھے جو اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے وہ یہی ہے کہ امانت کے معنے ماتحت ، نوکر ، رعایا ، میں اس کے یہی معنے کرتا ہوں۔انسان کو چاہئیے کہ اللہ نے جن وجود وں پر اسے حکومت دی ہے اور جن کو اپنے علم کے نیچے اس کے ماتحت رکھا ہے ان سے پاک سلوک کرے اور ان کے دین ودنیا کی بھلائی اور نفع رسانی میں کوشش کرے۔ہاں اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھے تو اس میں خیانت نہ کرے۔پھر اس کے ساتھ ہی معاہدات کی رعایت بھی ضروری چیز ہے جب کسی قسم کی حکومت انسان کو ملتی ہے تو اس کے ساتھ ہی معاہدات کا باب بھی کھل جاتا ہے۔اس لئے ان دونوں کو ایک ہی جگہ جمع کر کے فرمایا:۔۔معاہدات کی رعایت بڑی بات ہے۔میں تمہارے معاہدات کا ایک ورق پیش کرتا ہوں۔غور تو کرو تم کہاں تک اس کی رعایت وحفاظت کرتے ہو۔ایک تو وہ معاہدہ ہے جو تم میرے ہاتھ پر کرتے ہو۔پھر تم ہی میں سے وہ بد بخت بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ خلیفہ کیا چیز ہے بڑھاپے کی وجہ سے ہوش ماری گئی۔دیکھو سنو اور یاد رکھو مجھے خدا تعالیٰ نے آپ خلیفہ بنایا ہے اور میں تم میں سے کسی کا بھی