خطابات نور — Page 581
پھر چلا آیا مگر اس نے میرے دوست کوبلا کر زربفت، کمخواب وغیرہ کے قیمتی لباس اور بہت سے روپے میرے پاس بھیجے۔جب وہ میرے پاس لایا تو میں نے اس کو کہا کہ یہ وہی صدری ہے۔وہ حیران تھا کہ صدری کا کیا معاملہ ہے؟ آخرسارا قصہ اس کو بتایا اور اس کو میں نے کہا کہ زربفت وغیرہ تو ہم پہنتے نہیں اس کو بازار میں بیچ لائو۔چنانچہ وہ بہت قیمت پر بیچ لایا۔اب میرے پاس اتناروپیہ ہوگیا کہ حج فرض ہو گیا۔اس لئے میںنے اس کو کہا کہ اب حج کو جاتے ہیں کیونکہ حج فرض ہو گیا ہے۔غرض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا ہاں اس میں دنیا کی ملونی نہیں چاہئے۔بلکہ خالصاًلوجہ اللہ ہو اللہ کی رضا مقصود ہو اور اس کی مخلوق پر شفقت ملحوظ ہو۔پس تم مظفر ومنصور ہونے کے لئے نمازوں میں خشوع پیدا کرو۔لغویات سے بچو اور پھر اپنے اموال سے زکوٰۃ دو۔چوتھاذریعہ اس کے بعد ایک بہت بڑا معاملہ آتا ہے جس کے مقابلہ میں مال کی قربانی کچھ بھی چیز نہیں۔یہ ایک دوزخ کا نمونہ ہے انسان اس سے خدا کے فضل سے ہی بچتا ہے ،یہ شہوت ہے۔میں نے اس دوزخ کو دیکھا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے وہ بہشت ہے۔اس لئے مظفر ومنصور ہونے کے بعد مال سے بھی زیادہ جس قربانی کی ضرورت ہے وہ شہو ت کے مقابلہ میں عفت سے کام لینا ہے اور خدا تعالیٰ کی اس کتاب میں اس کو ان لفظوں میں ادا کیا گیا ہے یہاں ایک جامع لفظ رکھا ہے۔جن سوراخوں کے ذریعہ شہوت کی آگ تیز ہوتی اور انسان کو بھڑکاتی ہے ان تمام کی حفاظت ضروری ہے کبھی یہ کانوں سے آتی ہے۔کبھی باتوں سے اور آنکھوںسے اور بالآخر ان فروج سے اس کی تکمیل ہوتی جو اس کے مظاہر ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ کی مجیدکتاب میں فروج کا لفظ بول کر تمام کی حفاظت ونگہداشت کی تعلیم دی۔پس مومن کو چوتھے مرتبہ پر چاہئے کہ حفاظت فروج کرے۔ہاں اپنی بیویوں اور مملوکہ پر وہ تمتع اٹھا سکتاہے۔جب انسان فروج کی حفاظت کرتا ہے تو اس کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو بڑھاتا ہے۔اس لئے اس پیدائش کے مقابلہ میں ادھر رکھا ۔