خطابات نور — Page 583
خدا کے فضل سے محتاج نہیں اور میں نے اس سے دعا کی ہے کہ مجھے ارذل العمر کے نتائج سے محفوظ رکھے اور اس نے رکھا ہے۔اپنے کلام کا فہم مجھے عطا فرمایا ہے یہ باتیں خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہیں وہ میرے لئے ایک غیرت رکھتا ہے اس واسطے ایسے خیالات سے توبہ کرو۔اس نے میرے قویٰ کو ہر طرح سلامت اور محفوظ رکھا ہے (الحمد للہ علیٰ ذٰ لک ) پھر یہ ایک کاغذہے جو میرے ایک دوست نے دیا ہے۔اس کی دوکان سے گیارہ سو روپیہ کاقرض لیا اور وقت پر ادا نہیں ہوا جس کی وجہ سے دوکان مشکلات میں پھنس گئی۔وہ کہتا ہے سپارش کرو لوگ قرضہ ادا کر دیں۔میں تمہیں ایک بات سناتا ہوں لوگ کہتے کہ فلاں شخص نے جنازہ نہیں پڑھا۔میں نے پوچھا جس نے پڑھا اس نے کیا پڑھا تو کہا اس کی خبر نہیں۔آخر میں نیت خیر کہہ کر چلے آتے ہیں۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جاتاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ اس کے ذمہ قرض تو نہیں اگر کہتے ہے تو کہہ دیتے تم جانو !اور ایک کی بابت کہاکہ اس کے گھر میں مال ہے اور ایک کی نسبت ایک صحابی نے کہا کہ میں اس کے قرضہ کا ذمہ دار ہوں۔تو آپؐ نے فرمایا میں تم سے لوںگا اور پھر جب صفیں درست ہوئیں تب پھر آپ نے مکرر اس صحابی کو کہا کہ تم سے لوں گا۔جب اس نے مجبوراً اقرار کیا تو جنازہ پڑھا۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ تم میں سے ایک میرا دوست ہے وہ مجھے علیحدہ ملا اور اس نے مجھے دس روپیہ نذر کئے۔میں نے کہا بہت روپیہ مل گئے ہیں تو کہا کہ آپ کی دعا سے کیا پرواہ ہے۔اس پر میں نے اس کو کہا کہ تم نے فلاں شخص کے پانچ سو روپیہ دینے ہیں تم ہمارے دوست ہو، مرید ہو اس پانچ سو میں سے یہ دس دے دو لینے والا بھی یہاں ہی تھا۔وہ میرے پاس سے اٹھ کر اس کے پاس گیا اور کہا کہ دوسو ابھی لے لو۔وہ لے کر دوڑتا ہوا میرے پاس آیا کہ مولوی صاحب تم نے اس کو کہا ہے۔غرض میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اس غریب مہاجر سے لیتے ہو تو دیتے کیوں نہیں اس کو ادا کر دو۔وہ کہتا ہے میں نے کوٹ خریدے تھے فروخت کے لئے ان کی بھی سپارش کر دو۔میںسپارش کرتا ہوں کہ خرید لو۔الغرض امانات اور معاہدات کی رعایت کرو۔اس سے تمہارے اندر ایک اور کمال پیدا ہوگا۔