خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 384 of 660

خطابات نور — Page 384

موقع ملتا اور جو کم خدمت کرتا اسے کم موقع ملتا۔یہ بناوٹی با ت نہیں ہے بلکہ واقع میں اسی طرح سے ہوا غرض یہاں تک میں نے کوئی بات اس آواز کے مخالف نہ سنی جو بچپن سے میرے کان میں ڈالی گئی تھی۔پہلی مخالف آواز لیکن جب کہ میں نارمل اسکول راولپنڈی میں پڑھتا تھا تو میرے مکان کے قریب ایک مشنری پادری صاحب الگزینڈر نام کی کوٹھی تھی ان سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو انہوں نے دو کتابیں بنام میزان الحق و طریق الحیات نہایت خوبصورت جلد کی ہوئی مجھے دیں۔ان کتابوں سے مجھے پرانی تعلیم اور اس کے منشاء کے برخلاف باتیں معلوم ہوئیں جس سے مجھے حیرت پیدا ہوئی۔یہ پہلی صدا تھی جو اس کلمہ اور تعلیم کے مخالف میرے کان میں پڑی۔اس وقت میری عمر پندرہ سال سے کچھ زائد تھی۔مزید مخالفتوں کی آواز اس کے بعد ایک بڑا وقفہ رہا مگر اہل حدیث و اہل فقہ کے باہم تخالف کے اسباب پر اطلاع مجھے پوری پوری مل گئی۔پھر میں لکھنؤ میں تعلیم حاصل کرنے کے واسطے گیا۔وہاں مجھے شیعوں کے عقائد اور اعمال کے دیکھنے اور سننے کا بڑا اتفاق ہوا۔وہاں اہل تشیع طلبۃ العلم بھی تھے اور علماء بھی تھے سب کے حالات دیکھنے کا بخوبی موقع ملا۔تب مجھے شوق ہوا کہ میں تحقیقات کروں کہ دنیا میں کس قدر مختلف الخیال لوگ ہیں اور ان میں باہمی کیا کچھ اختلاف ہے اور ان کے عقائد میں کیا فرق ہے؟ اس وقت تک مجھے صرف دو فرقوں کے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ایک عیسائی دوسرے شیعہ ،زیادہ کاوش کرنے سے معلوم ہوا کہ دو اور فرقے ہیں ایک اخباری اور ایک اصولی۔پھر مجھے ہمیشہ یہ شوق رہا کہ دریافت کرتا رہوں کہ کس قدر عجیب خیالات کے لوگ اور دنیا میں ہیں مگر اس وقت بہ سبب طالب علمی کے یا شاید اس واسطے کہ آج کل کی طرح تبادلہ خیالات کا موقع نہ تھا مجھے زیادہ اختلاف معلوم ہوئے۔اسلامی فرقوں میں چنداں اختلاف نہیں پھر ایک اور موقع نکلا جس میں مسلمانوں کے درمیان مختلف فرقوں کے دیکھنے اور حالات معلوم کرنے کے ذرائع مجھے حاصل ہوئے۔تب مجھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان مقلد اور غیر مقلد ،شرک وبدعت ، سنی وشیعہ ،اتباع الحدیث وغیرہ کے سبب بھی اختلافی مسائل ہیں۔یہ میدان بہت بڑا نظر آیا لیکن جب میں نے اس پر غور کی نگاہ‘ ڈالی تو معلوم ہوا کہ اختلاف کوئی بہت