خطابات نور — Page 383
پر کہ مجھے بہلانے کے وقت اور لوری دیتے ہوئے اس کے منہ میں اللہ کا نام اور نبی کا نام رہتا تھا۔ابتدا میں میرے مسلمان ہونے کا یہی سبب ہوا۔بچپن کی سنی ہوئی کلام کا اثر آپ کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کے گھر میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے اول اس کے کا نوں میں اذان کہی جاتی ہے جن کلمات میں مذہب اسلام کے تمام اصول صاف صاف مندرج ہیں وہ اس کے کان میں پھونکے جاتے ہیں جب میں نے طب پڑھی تو میں اس نکتہ پر پہنچا کہ بچپن کے وقت کان میں پڑی ہوئی بات گہرا اور لمبا اثر رکھنے والی ہوتی ہے۔میں نے ایک عورت کاحال پڑھا ہے جو کہ جرمن زبان سے بالکل ناآشنا تھی مگر اس پر ایک دورہ پڑتا تھا کہ اس وقت وہ جرمن زبان میں ایک فصیح بلیغ لیکچر دیا کرتی تھی ایک ڈاکٹر اس کھوج میں لگا کہ اس کی اصلیت کو دریافت کرے۔بہت کوشش کے بعد اسے اس کا سبب یہ معلوم ہوا کہ جب یہ عورت چھوٹی بچی تھی اور اپنی ماں کی گود میں تھی اس وقت اس کی ماں ایک جرمن پادری کے ہاں خدمت گاری کے لئے رہتی تھی۔پادری صاحب اپنی سرمن(خطبہ)تیار کر کے پہلے مشاقی کے لئے گھر میں بآواز بلند اسی طرح پڑھا کرتے تھے جس طرح انہوں نے گرجا میں پڑھنا ہوتا تھا اور وہ آواز اس لڑکی کے کان میں متواتر ایک عرصہ تک پڑتی رہی۔یہ اس کا اثر تھا جواب وہ جرمن زبان میں لیکچر دیتی تھی۔ابتدائی تعلیم پھر میں نے اپنی ماں کی گود میں لَااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰـہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکی آواز سنی۔بڑے بڑے صلوات وبرکات وسلام اور رحمتیں ہمارے ہادی پر ہوں جس نے ہمارے کانوں میں یہ صدا پہنچائی۔جب مجھے ذرا ہوش آئی اور میں نے اپنے باپ کے پاس پڑھنا شروع کیا تب بھی یہی صدا میرے کان پڑتی رہی۔جب میں اور بڑا ہوا اور مدرسہ میں داخل ہوا تو اس وقت کے مدارس میں ایسا گھمسان نہ تھا جیسا کہ اب ہے کہ ایک ہی بینچ پر اور ایک ہی کمرہ میں بہت سے مختلفانہ مذاہب کے لوگ جمع ہوں اور اکٹھے سبق پڑھیں اور ایک دوسرے پر اپنا اثر ڈالیں بلکہ ہمارے میاں جی ایک خاص رنگ کے آدمی تھے وہ دس لڑکوں کو ملا کر سبق نہ پڑھاتے بلکہ ایک ایک لڑکے کو باری باری الگ الگ سبق دیتے تھے جو زیادہ خدمت کرتا اسے زیادہ اور عمدہ سبق پڑھ لینے کا