خطابات نور — Page 339
محبوب حقیقی کے حضور پہنچے۔تو ان کی و فات نے بھی لا الٰہ الا اللّٰہ ہی کی طرف ہمیں متوجہ کیا۔جب سچی محبت مولیٰ سے ہوگی۔تو اس کا منشاء معلوم کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر اس کی پاک کتاب اور پاک زبان سے بھی محبت ہوگی۔اس کو قرآن کریم نے جہاں سے میں نے اس وقت کھول کر رکھا ہے۔بیان کیا ہے۔ (اٰل عمران :۳۲) یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت رکھتے ہو۔تو اس کی پہچان یہ ہے کہ میرے تابع ہوجائو۔پھر تم آپ ہی محبوب ہوجائو گے۔یہ گُر ہے جو قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔کیسا مجرب نسخہ ہے۔پہلے آپ آزماتا ہے پھر تمہیں بلاتا ہے۔ایک اور راز محبت ہے اور قرآن کریم نے ہی اسے بیان کیا ہے مگر چونکہ بہت ہی باریک ہے۔عادت کے نہ ہونے کے سبب اور وقت کے تنگ ہونے کے باعث اس وقت کھول نہیں سکتا۔حُبّ کے لئے ایک مناسبت ہوتی ہے۔اس مناسبت کے سبب سے عشق و محبت ہوتی ہے۔ہیر یا رانجھا کو ایک دوسرے نے جس نظر سے دیکھا۔کوئی اور ان کے دیکھنے والا نہ تھا۔یہ ایک باریک راز ہے اور بڑی صحبت کو چاہتا ہے۔میرے دل میں جوش ہے۔جس سے بتائوں کہ یہ کیا راز ہے۔ایک لاہوری دوست ایک شخص کو یہاں لائے اور اپنے خرچ سے لائے کہ تم مرزا صاحب کو ایک مرتبہ چل کر دیکھ آئو۔پھر جو جی چاہے کہنا۔جب وہ دیکھ کر واپس گیا اور اس سے پوچھا۔تو اس نے اگر کچھ کہا تو یہ کہ نہایت ہی لغویت کے ساتھ آپؑ کی پگڑی پر اعتراض کیا۔اس کی نظر میں وہ شان محبوبیت جو مرزا میں تھی آہی نہیں سکی اور ایک ہم ہیں کہ اس کی پگڑی کے پیچوں میں بھی ایک محبت کا جذبہ معلوم ہوتا ہے اور محبت کا ایک ایسا مخفی راز ہے کہ ہاتھ چومتے چومتے تھکتے نہیں اور وجہ نہیں بتا سکتے۔اس کے مقابلہ میں بغض بھی ہے۔اس کے لئے بھی اسی قدر کہنا پڑتا ہے۔مگر یاد رکھو کہ یہ ایک مخفی راز ہے اور نہایت باریک۔(الحجر :۳۰) او فرشتو! میں ایک آدم بناتا ہوں۔وہ عناصر کی چیز ہے۔تمہیں اس سے کیا تعلق۔مگر میں اس میں اپنا ایک سِرّ محبت ڈالتا ہو ںتو تم سجدہ میں گر جائو گے۔