خطابات نور — Page 340
یہی وہ سِرّ ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض لوگوں سے پوچھے گا کہ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ (مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل عیادۃ المریض) میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔وہ کہے گا کہ تو کب بیمار ہوا۔مگر اسے جواب میں بتایا جاوے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا۔تم نے اس کو نہیں پوچھا۔یہ کیا تھا۔وہی مخفی امر حُبّ کا تھا۔اس بندہ کا پوچھنا گویا خدا تعالیٰ کا پوچھنا تھا۔یہ ایک سِرّ ہے جو اس بندہ کے ساتھ تھا۔فلاسفر اس سِرّ کو پہنچے ہیں کہ ایک آنکھ جب دوسرے سے لڑتی ہے تو حُبّ ہوجاتی ہے مگر وہ اس راز کو بیان نہیں کرسکے کیونکہ یہ ایک کیمیاوی تاثیر ہے جو بیان میں نہیں آسکتی۔اس سے سمجھو کہ جس کے دل میں لا الٰہ الا اللّٰہ کلمہ پیدا ہوا۔اس نے دنیا کی محبتوں پر نظر کی اور تمام محبوبوں کو دیکھا۔تو ان کی محبوبیت کو ذاتی نہ پایا اور ان میں نقص زوال محسوس کیا۔ان کو دیکھ کر دل سے، زبان سے، جان سے رات دن کے رونے سے یہ نکلا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ کہو۔لاشریک لہ کہو۔اب یہ کیا سِرّ ہے کہ سارا کارخانہ ہی حُبّ سے چلتا ہے مگر ان میں زوال ہے۔میں نے بہت غور کیا ہے کہ جہاں تک محبت مخلوقات سے ہے۔وہ ایک مخفی راز ہے اور وہ حی و قیوم کے تربیت کے نیچے ہے۔پھر محبت کے بھی کئی مراتب ہیں۔اس کی تمثیل سنو! ایک شخص جو ریگستان میں ہو اور سخت گرم ہوا چل رہی ہو اور دھوپ بھی سخت تیز ہو۔وہ اس سے گھبراتا ہو۔وہ دور سے درخت کو دیکھتا ہے اور اس کے سایہ کو غنیمت سمجھتا ہے اور دوڑ کر اس کے نیچے چلا جاتا ہے۔لیکن وہاں وہ ایک اور درخت دیکھتا ہے۔جس کا سایہ گھنا ہے اور پاس پانی بھی ہے تو وہ اس سایہ دار درخت کو جس کے پاس تالاب بھی ہے زیادہ پسند کرے گا اور وہاں چلا جانا چاہے گا۔لیکن اس کے بعد ایک اور درخت کو دیکھتا ہے جہاںتالاب ہی نہیں بلکہ آدمی بھی ہے تو وہاں جاتا ہے اور وہ جگہ اسے محبوب تر نظر آتی ہے۔پھر وہاں جاکر پوچھتا ہے کہ تو کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے کہ دہریہ ہوں۔لیکن آگے دیکھتا ہے کہ ایک اور شخص ہے جو خدا کو مانتا ہے تو وہاں جاتا ہے مگر اس سے جاکر پوچھا کہ تو کون ہے اور اس نے کہا کہ میں آریہ ہوں۔تو پھر بھی شکر کرتا ہے کہ دہریہ تو نہیں۔لیکن آگے چلتا ہے تو اور دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو قادر ماننے والا ہے اور وہ یہودی یا مجوسی یا برہمو ہے تو اور