خطابات نور — Page 338
پیدا ہوتے ہیں کہ خودکشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ لازوال خوبیوں کا مالک ہے اور تمام عیبوں سے پاک جو محبوب ہے۔وہ اللہ ہی ہے۔محبوبوں پر ذرا عیب لگ جاوے تو محبوبیت معدوم ہوجاتی ہے۔ایک شخص ایک مرتبہ آدھی رات کومیرے پاس آیااور وہ اتنا بڑا آدمی تھاکہ میرے جیسے کو لاکھ دو لاکھ دے سکتا تھا مگر آدھی رات کو خود آیا اور میرے دروازہ کو کھٹکھٹایا اور جب میں نے دروازہ کھولا تو جھٹ سر سے پگڑی اتار کر میرے پائوں پر رکھ دی۔سبب دریافت کیا تو کہا کہ اتنی مصیبتوں سے ایک عورت کو بلایا ہے اور اب میں قادر نہیں ہوسکتا۔اس لئے پیشاب کا بہانہ کرکے آپ کے پاس آیا ہوں۔اب کوئی دوا دو ورنہ مرتا ہوں۔مجھے اس حالت کو دیکھ کر ایک عجیب نکتہ یاد آیا کہ محبوبیت کے لئے بھی بڑی مصیبت ہے۔کہتے ہیں کہ ایک مولوی صاحب اپنی ایک شاگردنی پر عاشق ہوگئے۔اس نے کہا کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرکے آئو۔وہ گئے اور کانپتے ہوئے آئے اور اپنے عضو تناسل پرجوتے مارے کہ کم بخت تو نے ذلیل کیا۔غرض محبوبیت کے ساتھ ذرا دکھ ہو تو باطل ہوجاتی ہے۔پس ایک ہی محبوب ہے جو تمام عیوب سے پاک اور تمام نقصوں سے منزہ ہے اور وہ سبوح قدوس محبوب ہے جو علم، قدرت میں کامل ہے۔(الجمعۃ :۲) تمام چیزوں سے گواہی ملتی ہے کہ اپنے علم قدرت میں یکتا۔حی و قیوم ہونے میں کامل۔اس کے حسن کا کمال یہ ہے کہ ہے اور تمام عیوب سے منزہ ہے۔پھر جس جس قدر کوئی اس کا قرب حاصل کرتا ہے۔اسی قدر وہ منزّہ ہوتا جاتا ہے۔اب سوچو کہ اگرحُبّ اور عشق کوئی چیز ہے تو صرف اللہ ہی سے چاہئے۔میں نے پرسوں بتایا تھا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ مجھے کس طرح آیا اور دعا، قرآن کریم سے کس طرح محبت بڑھتی گئی مگر اس وقت یہ نہ بتایا کہ ان سب کی جڑ حُبّ تھی۔اس لئے کہ جناب الٰہی کے جو کام ہیں۔رحمانیت سے شروع ہوتے ہیں۔پھر رحیمیت کی ضرورت پڑجاتی ہے۔کیونکہ جب اس نے قویٰ دئیے ہیں اور استعمال کی تاکید کی ہے۔آخر میں رحمانیت کی شان سے پھر کرشمہ دکھایا۔مرزا صاحب میں ایک شان محبوبیت تھی۔اس نے ہمیں کھینچا اور اس محبت پر وطن اور دوسرے دنیوی منافع کو قربان کردیا۔اس محبت کی غرض لا الٰہ الا اللّٰہ کی ہی تکمیل تھی۔ان کا رفع ہوا اور وہ