خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 660

خطابات نور — Page 208

میں خود بخود اس سے نیکی سر زدہوتی چلی جاتی ہے۔اور اس میں پھر اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ مالی نہ جانی محسوس ہوتی ہے ساتھ ہی یہ خیال آتا کہ کنویں کی ِپھرکی کو اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھیں تو عجیب سبق ملتا ہے۔وہ یہ کہ جب اس کے ذریعہ ڈول کو کنویں میں گرانا چاہتے ہیں تو جوں جوں ڈول بعید ہوتا جاتا تو ں تو ں پھرکی کی گرانے کی طاقت بڑھتی جاتی ہے۔پھر جب انسان گرنے لگتاہے تو گرنے میں بھی گرانے والی طاقت جلدی جلدی ترقی کرتی ہے پہلے پہل کچھ گناہ کا شرم، کچھ دوستوں کا لحاظ، کچھ مربیوں سے حجاب ہوتی بھی ہے مگرپھر آہستہ آہستہ سب سے بڑھ جاتا ہے پھر جب ہمارے دل میں نیک خیال آویں تو ہم ان کے بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ ہم سکھ پہنچانے کی کوشش کریں۔مگر جب بدی کے خیال آویں تو ان کو روکیں ورنہ اس میں ترقی ہو کر دکھ اٹھانا پڑے گا۔پھر مذہب میں پاک کتا بیں بھی ہو تی ہیں ان میں دنیا کی بہتری بھی ہوتی مگر ان میں ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو بحث طلب ہوتا ہے۔پھر کیا با برکت ہے وہ ملک، وہ قو م،وہ گھر جس نے اپنی کتا ب کی نیکی‘ باتوں میں جن میں اتحاد تھا اتفاق کیا۔تورات، انجیل، وید، مہاں بھارت ‘ قرآن کریم میں نیکی کی باتوںمیں تو اتفاق تھا۔اس سے اگر لوگ نیکی کی باتوں میں اتفاق کرتے اور اختلاف کے لئے ہمارے اندر ونہ کو جاننے والا دعائیں کرتا۔کیونکہ ہم اپنی بھلائی میں تو کوشاں ہیں۔مگر بعض باتیں جن میں ہمارا اختلاف تھا ہم لوگوں نے اس اختلاف کو آگے رکھ لیا اور اتحاد کو چھوڑ دیا اس لئے اختلاف بڑھ گیا۔ایک دفعہ ایک عالم صاحب مرزا صاحب کے متعلق مباحثہ کرنے آئے۔میں نے کہا آپ تو مولوی ہیں اور تنہائی میں بحث چاہتے ہیںگویا آپ ہارنا نہیں چاہتے۔مگر بد قسمتی سے آپ نے ضرب کا صفحہ پڑھاہے۔مگر نہ آپ مارنے والے نہ مار کھا نے والے۔پھر آپ کیا فائدہ اٹھا ویں گے کیوں۔اس کی دو وجہ ہیں۔اگر آپ جیت جائیں تو اگر ہار جائیں تو۔گواہ کون ہوگا اسی لئے تو آپ تنہائی چاہتے ہیں اصل میں آپ کا دل مانتا ہی نہیں کہ ایک انسان دنیا کا مصلح ہو سکتا ہے پھر اس کی عمدہ راہ یہ ہے کہ ہر قسم کی بدی دل سے دور کر کے خدا کے حضور دعا کرو کہ مولا کریم! مجھے ان امور میں بہت شبہات ہیں پھر تو میری راہ نمائی کر اور ہدایت کر۔پھر مضطر انسان کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے