خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 660

خطابات نور — Page 209

خر گدا نہ بنو۔نر گدا بنو۔پس خدا تعالیٰ خود تمہاری راہ نمائی کرے گا۔جواب دیا اس سے کچھ نہیں بنتا۔میں نے کہا پھر مجھ سے بھی کچھ نہیں بنتا مجھے یہ یقین تھا کہ اگر یہ شخص اس طرح دعا کرے گا تو ضرور فائدہ اٹھاوے گا۔مگر خلاف نکلا۔کیا حرج تھا کہ وہ ایک دفعہ بھی دعا کر لیتا اور میں سمجھتا کہ مجھے بھی باوقعت سمجھا۔مگر کچھ دنوںکے بعد میں نے اس کی ایک کتا ب دیکھی اس میں لکھا کہ مرزا کے متبع ایسے بودے ہیں کہ میں نے نورالدین سے سوال کیا تو مجھے دعا کی غلط راہ دکھا ئی پھر کسی کی تسلی کر دینا یا تسلی کرنے کا وعدہ کرنا یہ بدوں فضل الٰہی حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے ہر قسم کے بغض‘ کینہ‘ عداوت کو چھوڑ کر ایسی بات اختیار کر ے جن سے خود بھی اور دنیا کو بھی سکھ میں رکھ سکے۔میں نے اپنے پیر سے ایک دفعہ عرض کیا کہ کوئی ایسا نسخہ بتلائو کہ دنیا میں ہمیشہ خوش رہوں۔کہا آسان ہے مگر لوگ علم نہیں رکھتے اور عمل نہیں کرتے۔میں نے کہا کیا؟ جواب دیا کہ خدا نہ بنو اور رسول نہ بنو۔میں نے کہا اس کا کیا مطلب ؟ کہا تم خدا کس کو کہتے ہو۔میں نے کہا وہ ایک ایسی زبردست طاقت ہے کہ جو چاہے سو کرے۔کسی کی مجال نہیں کہ نا فرمانی کرے پھر کہا کہ ؎ چاہا ہم نے مگر نہ چاہا تو نے چاہا تیرا ہوا ہمارا نہ ہوا مجھے یہ بات نہایت پسند آئی کہ ناکام انسان بھی کبھی ناراض نہ ہو۔کیونکہ ہم خدا تو نہیں کہ ہمارا ہر چاہا پورا ہو جاوے اگر اس کا کام پورا نہیں ہوتا تو نفس کو ملامت کرے کہ تو کوئی خدا ہے جو تیرا چاہا ہو کر رہے پھر فرمایا۔رسول کس کو کہتے ہو۔عرض کیا کہ وہ خدا کی طرف سے آتے اور جو کچھ لاتے وہ حق اور سچ ہوتا۔اور اگر لوگ اس پر عمل نہ کرتے تو گھبراتے کہ جو کچھ ہم لائے ہیں لوگ اس کو ضرور مان لیں۔فرمایا پس تو اگر کسی حکم کی اتباع کرانے میں ناکام رہے تو سمجھنا کہ تیرا رسول کا عہدہ تو نہیں کہ تیرا ہر کہنا مان لیا جاوے پھر تو یاد رکھ کہ اگر تیر ی سچائی کو بھی کوئی چھوڑتا ہے تو تو مامور نہیں یہی راحت بخش زندگی ہے۔ایک تقدیر کا مسئلہ ہے جس پر اتفاق ہونا چاہیے یہ بھی ملک کی بد قسمتی ہے کہ پاک اور سچے معنوں کا انکارکریں۔تقدیر کے معنے ہیں اندازہ ‘ آواز‘ علم‘خیمہ وغیرہ ہر چیزکی ایک حد ہوتی ہے جس کو عربی میں تقدیر کہتے ہیں (الفرقان:۳)۔پس یہ سب