خطابات نور — Page 81
اس وقت غافل اور بے خبر ہے اور ہم چشم دید واقعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ایک قوم نے قرآن کو عملی طور پر قصہ کہانی سمجھ رکھا ہے اور ایک ہماری قوم ہے جو قرآن کو زندہ کتاب سمجھتی ہے اور اس کی آیات کو اب بھی اسی طرح پاتی ہے۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت خیرالقرون کے لوگ پاتے تھے۔پس ہم زیادہ ذمہ وار اور جواب دہ ہیں ہم پر حجت پوری ہوچکی ہے۔ہم میں خدا کا امام موجود ہے۔بہت بڑی ضرورت اس امر کی کہ ہم قرآن کی تعلیم کی طرف توجہ کریں اور اس کے لئے یہ ایک راہ ہے کہ یہاں آکر ایک جماعت رہے اور وہ تعلیم حاصل کرکے واپس اپنی قوم میں جاکر تبلیغ کرے اور وہ منذر بنیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ہم نے ایک چھوٹا سا مدرسہ بطور امتحان بنایا ہے اس کی طرف بھی لوگوں کو بہت ہی کم توجہ ہے۔حالانکہ یہ مدرسہ حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاص توجہ سے کھلا ہے۔غرض ایک مرحلہ اور موقع یہ ہوتا ہے کہ مومن راستباز اور مامور کے حضور رہ کر اپنی اصلاح کرتا ہے اور اس کے پاک نمونہ اورپاک صحبت سے فیض حاصل کرتا ہے اور عملی طور پر قرآن کے حقائق اورمعارف سے آگاہی پاتا ہے اور اس کے پاس رہ کر بھوک پیاس اور جو ابتلا اس پر آئیں ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔تو اسے حکم ہوتا ہے۔(التوبۃ :۱۲۳)۔اب اس کا یہ فرض ہوجاتا ہے کہ جوںجوں اسے کافر ملتے جاویں۔ان کا مقابلہ کرے۔پہلا کافر اس کا نفس ہے۔نفس بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے خلاف اس کو ہدایتیں کرتا ہے اور ان راہوں کی طرف اسے لے جانا چاہتا ہے جو خدا سے دور پھینک دینے والی راہیں ہیں جن پر شیطان کا تسلّط ہے۔اس لئے پہلی کوشش اور پہلا مقابلہ خود اپنے نفس سرکش سے ہو اور اس کے جذبات سے بچتا رہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدّم کرے۔پھر وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ کسی نہ کسی قسم کا تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق یا رشتہ محبت کا نہیں رکھتے۔مثلاً برادری یا قوم کے تعلقات ہیں۔وہ برادری یا قومی رسم و رواج کے ماتحت اس سے وہ کرانا چاہتے ہیں جو اس کا خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت فرض نہیں بلکہ اس کے مخالف ہے۔ایسے موقع پر اس کو چاہئے کہ وہ اس کا مقابلہ کرے اور قومی تعلقات یا سوسائٹی کا کوئی اثر اس کوخدا سے دور پھینک دینے کا موجب نہ ہو۔پھر غیر قومیں وہ بھی