خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 660

خطابات نور — Page 82

اپنے کسی نہ کسی اثر کے ذریعہ اس کو خدا سے دور کرنا چاہیں تو یہ اپنی ایمانی قوت سے ان کا ایسا مقابلہ کرے کہ(الفتح :۳۰) ہوجاوے کسی منکر کا اثر کوئی اس پر نہ پڑے۔جیسے مضبوط چیز پر جونک کام نہیں کرسکتی اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے ایمان اور محبت میں نتھارا وہ دل ہو کہ کافر کی عظمت و جبروت کسی قسم کا اثر اس پر نہ ڈال سکے اور خدا کی رضا کے خلاف کوئی کام نہ کرسکے۔غلیظ کو دوسری جگہ شدید بھی فرمایا ہے اس کے معنی یہی ہیں کہ مومن کفار کے مقابلہ میں ایسا قوی ہو کہ اس کی کسی بات کا اثر اس پر نہ ہو۔پھر انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنے قویٰ، علم و دولت، جمعیت پر ناز کرتا ہے اور کبھی کبھی نیکی کی شکل میں بھی شیطان دھوکا دے دیتا ہے خوابوں اور الہاموں پر بھی گھمنڈ کر بیٹھتا ہے حالانکہ ان کی حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے مگر یاد رکھو کہ یہ بھروسے، یہ ناز، یہ فخر کام نہیں دے سکتے۔اصل بات جو انسان کو ہر حالت میں بچاتی اور اس کا ساتھ دیتی ہے وہ ایک ہی ہے جس کو تقویٰ کہتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی معیّت بڑی نعمت اور دولت ہے اور مبارک ہے وہ جس کو یہ نعمت ملی لیکن اس کے حاصل کرنے کی ایک ہی راہ ہے کہ انسان متقی بن جاوے۔ہمارے ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم جب غار میں تشریف لے گئے اور کفار آپ کی تلاش میں وہاں تک آپہنچے تو جناب صدیق نے عرض کیا آپ نے کیا فرمایا۔(التوبۃ :۴۰) اللہ ہمارے ساتھ ہے۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم جب فرعون کے لشکر اور دریا کے نظارہ کو دیکھ کر گھبرائی اور  (الشعرآء :۶۲) کی آواز آتی ہے تو موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں۔  (الشعرآء :۶۳) ہرگز نہیں۔میرا ربّ میرے ساتھ ہے وہ بامراد کرے گا۔غرض خدا کی معیّت تقویٰ سے ملتی ہے جس کے ذریعہ انسان دشمنوں پر فتح مند ہوتاہے۔متقی کا خدا خود معلّم ہوتا ہے اس کے لئے (الطلاق :۴) رزق دیا جاتا ہے۔متقی خدا کا محبوب اور ولی ہوتا ہے متقی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔پس ضرورت ہے اس امر کی کہ تم متقی ہو۔اپنے ایمان کا تجربہ کرو اور کوئی ذرا سا گند اور میل اس میں پائو تو اس کو نکالنے کی کوشش کرو۔کیونکہ تم جانتے ہو اگر بہت سارے دودھ میں ایک قطرہ بھی پیشاب کا ڈال دیا جاوے وہ سارا نجس ہوجاتا ہے۔اس لئے اگر کوئی ذرا سی کمزوری اور غلطی بھی محسوس کرو تو اس کے چھوڑنے کی فکر کرو۔ہر روز اپنی کمزوریوں کا مقابلہ کرو۔راست باز کا ساتھ دو۔کوئی شاخ جو درخت