خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 660

خطابات نور — Page 80

میری حیرت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ مسلمانوں کو اور بھی مفلس بنا دینے کی ایک تدبیر ہے۔میں ہائی ایجوکیشن کا مخالف نہیں ہوں مگر مجھے افسوس اس بات سے آتا ہے کہ مسلمانوں کو الٹی راہ پر ڈالا جاتا ہے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے افلاس کی یہ وجہ نہیں بتائی۔قرآن شریف نے صاف فیصلہ کیا ہے۔٭  ( طٰہٰ :۱۲۵) اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا۔پس تحقیق اس کے لئے گزران تنگ ہوگی اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیںگے۔اصل وجہ افلاس کی تو یہ ہے مگر افسوس ہے کہ اس سے غافل ہیںاور اور بھی دور ہٹتے جاتے ہیںاوربایں ہمہ چاہتے ہیںکہ مسلمانوں کو تنزّل سے نکالیں جب قرآن کریم اور ذکر اللہ سے دوری بڑھے گی تو اس کانتیجہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ضنک معیشت ہوگا۔پس میں ان لیکچراروں اور ریفارمروں کے ساتھ اسباب افلاس میںمتفق نہیں۔ہائی ایجوکیشن کا نہ ہوناوجہ افلاس ہوگا۔ہو لیکن اصل باعث اعراض عن ذکراللہ ہی ہے۔میںپھر پوچھتاہوںکہ جس قدر کوشش اور وقت اور روپیہ ہم دنیاوی علوم کے حاصل کرنے کے لئے َصرف کرتے ہیںہم نے اور تم نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے واسطے قرآن کریم کو دستور العمل بنانے کی خاطر پڑھنے کے واسطے کس قدر نقدی ،وقت اور دعائوںکو خرچ کیا ہے؟میں نے جب بعض لوگوں کوکہا ہے کہ قرآن شریف پڑھا کرو توانھوںنے نہایت متانت اور شوق سے یہ جواب دیا ہے کہ کوئی عمدہ خوبصورت خوشخط چھپی ہوئی حمائل دے دو۔جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ قرآن شریف کے لئے یہ لوگ گویا ایک اٹھنی یا روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف مخرّب اخلاق ناولوںاور افسانوںکے خریدنے میں صد ہا روپیہ بھی خرچ کر دیں تو مضائقہ نہیں آہ! (یٰس :۲۷) غرض انسان کو واجب ہے اور ہم کو بہت ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کی طرف بہت توجہ کریں بجز اس تعلیم کے اور یہ تعلیم بھی دستور العمل کے لئے ہو تو مفید ہے۔بجز اس کے کچھ فائدہ نہیں ہے۔اور اس کے لئے یہ موقع اور وقت بہت ہی عجیب ہے ایک قوم