خطابات نور — Page 401
طرف توجہ کرتا ہوں۔(اٰل عمران :۱۹)۔اللہ جل شانہ‘ فرماتا ہے۔۔اس لا الٰہ الا اللّٰہ کی گواہی اللہ نے دی ہے گواہی ہمیشہ چند آدمیوں کے سامنے دی جاتی ہے۔جناب الٰہی کی گواہی کے ساتھ بھی تمام رسول تمام انبیاء اور تمام اولیاء سب کے سب گواہی دیتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو کہا ہے لا الٰہ الا اللّٰہ۔حضرت موسیٰ کی گواہی، حضرت نبی کریم کی گواہی سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے کہ اللہ نے ان کو فرمایا لا الٰہ الا اللّٰہ۔ہر فرد کے سامنے گواہی ضروری نہیں ہوتی۔میری دانست میں اللہ کی ہستی اور نبیوں کی صداقت پر یہ بڑی بھاری دلیل ہے کہ تمام انبیاء تمام اولیاء تمام مجددین سب کے سب متفق ہیں اس بات پر کہ لا الٰہ الا اللّٰہ معبود حقیقی خدا ہے اور اپنے حسن و احسان، علم و قدرت میں کامل ہے اور انسان بڑے انکساروتذلل کے نیچے ہے۔دس، بیس، تیس، چالیس، پچاس جس بات کے گواہ ہوں وہ بات بھی قابل اعتماد ہوتی ہے۔کیا حال ہے اس گواہی کا جس کے تمام صداقت کے عاشق صداقت کے محب اس بات پر متفق ہیں۔اس صداقت کے لئے کوئی بڑا تعلق کوئی بڑاہی فضل حضرت محمد رسول اللہ پر اللہ کا ہے۔دنیا میں ہزاروں انبیاء آئے ان کی تعلیم کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا پتا نہیں لگتا۔پھر ان کی کتابوں کی زبانیں ہی ایسی پرانی ہیں کہ ان کے سمجھنے کے سب سامان مفقود ہوگئے۔مجھے کبھی کبھی تعجب آتا ہے۔آریہ مذہب پر کہ دو ارب برس سے وید ہیں۔ویدوں کی لغت کا نام لیتے ہیں تو دو چار ہزار برس سے بتاتے ہیں۔بھلا دو ارب کی بات دو چار ہزار برس والے کو کیا معلوم۔یہ ایک فضل ہے ہم لوگوں پر۔سلامتی سے اسلام نکلا ہے۔اس واسطے رسول اللہ کی تعلیم کو اللہ نے محفوظ رکھ دیا۔یہ بھی ایک اس کی گواہی ہے کس طرح اس نے حفاظت فرمائی۔قرآن کے زیر و زبر تک محفوظ ہیں۔پھر قرآن کے پہنچانے والوں اور اس کے معانی کے محافظین، مجددوں کا سلسلہ موجود ہے۔ہم بھی بڑے خوش قسمت ہیں کہیں ۴۰ء ۵۰ء میں ہوتے تو اپنی آنکھ سے کہاں دیکھتے کہ خدا نے اسلام کی حفاظت فرمائی۔ہمارے زمانے میں ایک مجدد آیا۔اس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ہم نے اس راستباز سے بارہا سنا کہ جب تک انا الموجود کی آواز نہیں آتی ایمان کامل نہیں ہوتا۔اللہ اس کی روح رواں پر بہت سی برکتیں بھیجے۔کیسی ایک جماعت اللہ نے باوجود عزیم مخالفت کے عطا