خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 660

خطابات نور — Page 400

(حسن کے معنے خوبی کے ہیں) کسی میں ہوتا ہے اور جس قدر ہمارے ساتھ کسی کا احسان ہو اسی قدر اس سے محبت بڑھ جاتی ہے۔جناب الٰہی کے حسن و احسان پر جب ہم غور کرتے ہیں ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ساری دنیا کے احسان خدا تعالیٰ کے احسان کے جزو ہیں۔جو دنیا احسان کرتی ہے وہ خدا کے فضل و داد کا نتیجہ ہیں۔ہم غلہ کھاتے ہیں ایک دانہ سے کئی دانے پیدا کرنا اور وہ زمین وہ ہوا وہ روشنی وہ ظلمت جس کے ساتھ نشوونما وابستہ ہے کس کا کام ہے؟ پھر جانور جو ہل جوتتے ہیں کسی ملک میں بیل ہیں، ٹٹو ہیں، اونٹ ہیں، ہاتھی ہیں کہیں گھوڑے ہیں ان کا کتنا بڑا کارخانہ ہے؟ روشنیوں اور ظلمتوں اور جانوروں کا پیدا کرنا جن سے نشوونما ہوتا ہے۔پھر اس میں لکڑی کی حاجت، لوہار کی ضرورت، کتنا بڑا کارخانہ ہے۔یہ تمام کارخانہ جناب الٰہی کا عطا کردہ ہے۔عمدہ سے عمدہ غذا ہے، گلا بند ہے، پیٹ میں درد ہے، قلنج ہے تو وہ غذا کس کام کی اگر اللہ کا فضل شامل حال نہیں۔غرض اللہ کے فضل کے سوا کچھ بھی نہیں۔حسن جتنے ہیں وہ بھی خدا ہی کے فضل پر موقوف ہیں۔اگر خط و خال کاحسن ہے تو آنکھ کے سوا یہ نعمت بے کار ہے۔آواز کا حسن ہے تو کان کے سوا کچھ نہیں۔خوشبوئی کا حسن ہے تو ناک کے سوا کچھ نہیں۔اگر اعضا کی خوبی کا ہے تو ٹٹولنے کے سوا نہیں۔غرض سارے حسن و احسان خدا کے حسن و احسان پر موقوف ہیں۔اگر محبت کا مدار حسن و احسان پر ہے اور واقع میں ہے تو اللہ کے برابر ہمارا کوئی محسن اور حسن والا نہیں۔تعظیم کا مدار، علم کامل قدرت کاملہ پر ہے۔جناب الٰہی کی قدرتوں حکمتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں سارے علوم خدا ہی کے فیضان سے پیدا ہوتے ہیں۔پس اعلیٰ تعلیم کا موجب علم و قدرت ہے اور اعلیٰ محبت کا موجب حسن و احسان ہے۔اب ادھر ہم دیکھتے ہیں۔تذلّل کی حالت، سانس رک جاوے جان معاًجاتی ہے۔اب اس سے زیادہ تذلّل کیا ہے۔جب انسان لا الٰہ الا اللّٰہ پر غور کرتا ہے اور اسے اپنا انکسار و تذلّل معلوم ہوتا ہے اور جناب الٰہی کے علم و قدرت کا تماشا دیکھتا ہے اور حسن و احسان کا نظارہ اس کے سامنے سے گزرتا ہے تو وہ لا الٰہ الا اللّٰہ پکار اٹھتا ہے۔اس واسطے تمام غفلت کے پردے جو انسان کو قرب الٰہی میں واقع ہوتے ہیں۔ان سب کا علاج لا الٰہ الا اللّٰہ ہے۔اس کے بعد میں آیت کی