خطابات نور — Page 245
خلیفۂ وقت کی اطاعت کی اہمیت (تقریر فرمودہ ۲۷؍مئی ۱۹۰۸ء بر موقع انتخاب خلافت) انتخاب خلافتِ اولیٰ کے موقع پرحضرت حکیم مولوی نورالدین ؓ کی خدمت میںایک تحریری درخواست کے پڑھا جانے کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر ایک تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ :۔میرے دل کے کسی گوشہ میں کبھی اس امر کا خیال خواہش یا واہمہ نہیں تھا کہ یہ کام میرے سپرد کیا جائے۔میں چاہتا تھا کہ حضرت کا صاحبزادہ میاں محمود احمد جانشین بنتا۔اور اسی واسطے میں ان کی تعلیم میں سعی کرتا رہا۔یا میر ناصر نواب صاحب جو حضرت کے واسطے جائے ادب تھے یا نواب محمد علی خان صاحب جو حضرت کی فرزندی میں داخل ہیں یا حضرت مولوی محمداحسن صاحب جنہوںنے اس قدر تصانیف تائید حضرت میں کیں یا مولوی محمد علی صاحب جنہوں نے دین کی راہ میں ایسی جانفشانی کی یاسید میر حامد شاہ صاحب یا اور کوئی دوست۔میں ہر گز نہیں چاہتا کہ یہ بوجھ مجھ پر ڈالا جاتا کیونکہ میں اپنے میں اس کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن جب کہ بِلا میری خواہش کے یہ بار میرے گلے میں ڈالا جاتا ہے اور دوست مجھے مجبور کرتے ہیں تو اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میں قبول کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں اور دوستوں سے دعا کی ہر طرح کی امداد کی خواہش رکھتا ہوں۔ممکن ہے کہ بعض باتیں جو میں منواتا ہوں وہ کسی کی مرضی کے برخلاف ہوں۔پس اگر تم تیار ہو کہ میرا کہنا ہرامر میں مانو تو میں اسے منظور کرتاہوں۔تم پھر بھی سوچ لواور جن کے نام میں نے لئے ہیں ان میں سے کسی کو اپنا امیر بنالو۔(البدر۲؍جون۱۹۰۸ء صفحہ۶،۷) ٭…٭…٭