خطابات نور — Page 246
وفات انبیاء پر سنتِ الٰہی اور اس کا ظہور (خلافت کے بعد پہلی تقریر) بعد کلمہ شہادت واستعاذہ آپ نے آیت (اٰل عمران:۱۰۵)۔پڑھی اور اس کے بعد فرمایا۔سنت الٰہی متعلق وفات انبیاء :۔میں اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جو ابدی اور ازلی ہمارا خدا ہے۔ہر ایک نبی جو دنیا میں آتا ہے اس کا ایک کا م ہوتا ہے جو کرتا ہے‘ جب کر چکتا ہے خدا تعالیٰ اس کو بلا لیتا ہے۔حضرت موسیٰ کی نسبت یہ بات مشہور ہے کہ وہ ابھی بلادِ شام میںنہیںپہنچے تھے کہ رستہ ہی میں فوت ہوگئے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسرٰی کی کنجیوں کا ذکر فرمایا کہ مجھے دی گئی ہیں مگر آپ نے وہ کنجیاں (چابیاں) نہ دیکھیں کہ چل دیئے۔ایسی باتوں میں اللہ تعالیٰ کے مخفی اسرار ہوتے ہیں یہاں بھی بہت سے لوگ تعجب کریں گے کئی پیشینگوئیاں کی تھیں وہ ابھی پوری نہیں ہوئیں۔پیش گوئیاں کس طرح پوری ہوا کرتی ہیں:۔میرے خیال میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ بتدریج کام کرتا ہے اور پھر جسے مخاطب کرتا ہے کبھی اس سے مراد اس کا مثیل بھی ہوتا ہے۔پہلے پارہ میں فرمایا کہ تم نے موسٰیؑ سے پانی مانگا اور ایسا ہی اور جگہ فرمایاحالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب وہ لوگ نہ تھے۔پس خدا کی باتیں رنگ برنگ شکلوں میںپوری ہوتی ہیں۔اسی طرح اللہ کی یہ بھی سنت ہے کہ بعض مواعید الٰہیہ کسی دوسرے وقت پر ملتوی کئے جاتے ہیں اسی لئے فرمایا (المؤمن:۲۹)اس پر خوب غور کرو کہ اس میں یہی سرّ تھا کہ تمام وعدے نبی کی زندگی میں پورے نہ ہوں گے۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ نے فرمایا۔قد یوعد و لایوفی۔