خطابات نور — Page 15
ضروری نہیں کیونکہ میں نے اپنی مرض پر اس تریاق کا تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے۔یہ وباء جو ہر ایک کو ہلاک کرتی ہے اس کا تریاق کس کے گھر اور گرہ میں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو وہ کسی کو اپنے امراض کی شناخت کی توفیق دیتا ہے اور پھر اس کے علاج کو پہچاننے کی بھی توفیق بخشتا ہے۔میں پھر اس مسجد میں جو خدا تعالیٰ کا گھر کہلاتا ہے اس کے سامنے یہ شہادت دیتا ہوں میرے جیسا بیمار خطرناک اور تندرستی میں بینظیر عمر کا بہت بڑا حصہ گزار چکا ہوں جس کا ایک ثلث بھی واپس نہیں آسکتا یہاں اگر اپنے مرض کا علاج نہیں پاتا ہوں تو کیوں بیٹھا ہوں؟ میرے جیسا پیشہ ور انسان آسائش کے سامان کہیں سے حاصل کر سکتا ہے مگر بتلائو تو سہی کہ یہاں کس قدر سامان مل سکتے ہیں۔ہمارے بھائی سوچ سکتے ہیں کہ ہم یہاں رہ کر کس قدر امداد اپنی کر سکتے ہیں۔پھر باایں ہمہ جو میں یہاں پڑا ہوا ہوں کیا پاگل اور مجنون ہوں؟ اگر کوئی دق مجھے اندر ہی اندر نہ کھا رہی تھی تو میں خود مجنونوں کا علاج کرنے والا ایک مجنوں کے پاس ہی وہ تریاق پاتا؟ سوچو! اور پھر سوچو! مجھے کوئی دلیل اس امر سے روک نہیں سکتی جبکہ میں خود اپنی دلیل بن گیا ہوں۔کیا میں خود اپنے لئے بیّن دلیل نہیں ہوں۔مسیح مر گیا۔یہ تو میں اپنی لمبی چوڑی تقریروں کے وقت بھی جانتا تھا کہ(الاحزاب :۶۳)۔(الرحمٰن :۲۷) میں کسی کی کوئی تخصیص نہیں۔دوسرا سلسلہ کہ متوفی واپس آتا ہے؟ صاحبان! قرآن کریم سے تومیت کا رجوع ثابت ہوتا ہے مگر متوفی کا رجوع ثابت نہیں۔چند قصوں میں احیاء موتی کا ذکر ہے مگر وہ متوفی کا نہیں۔متوفی کے لئے خدا کا وعدہ ہے کہ وہ واپس نہیں آتا۔مسیح بھی متوفی ہو چکے۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ابن مریم آئے گا۔صریح طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ دونوں مسیح جدا جدا ہیں مَاتَ زَیْدٌ وَجَائَ زَیْدٌ میں کیا زید جدا جدا نہیں ہیں؟ سوچو! مگر بااین ھمہ میں کہتا ہوں کہ عزیز! ابن مریم ہوا کرے کوئی اپنے دکھ کی دوا کرے کوئی یہ ایک سچی بات ہے کہ کامیابی راستباز کی صداقت کا ایک زبردست معیار ہے۔پودوں کی