خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 660

خطابات نور — Page 14

تحقیقات سے ان کو مس تک نہیں رہی) بے سود لفظی مباحث میں ان کی یہاں موشگافی ہو رہی ہے اب ایسی حالت میں غور کرو اور سوچو کہ یہ اسلام کس نرغہ میں ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس زمانہ میں جبکہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے رخصت ہوئے ہوں اور ابھی اسلام بھی ایسا طور پر نہ پھیلا ہو اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو۔اس وقت جبکہ مخالفت حد سے زیادہ بڑ ھ گئی ہو ایمان اور اعمال کا نام ونشان تک اٹھ گیا ہو۔ہر طرف اور ہر پہلو سے تخریب دین قدیم کی تدابیر ہو رہی ہوں جبکہ نہ اہل دل ہی باقی ہوں نہ اہل دماغ ہی ہوں۔خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید کا وعدہ پورا نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرما کر کہ (الحجر:۱۰)۔پھر عین ضرورت کے وقت اپنی تائیدا ور حفاظت کا ہاتھ کھینچ لے؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں!!! وہ اپنے دین کی خود حفاظت کرتا ہے اور اس نے اب بھی حفاظت کی اور اس کا ایک نگہبان امام بھیج دیا جو تم ہی میں سے ہے اور اس لئے وہ منکم کا مصداق ہے۔یہ کہنا کہ کتابیں موجود ہیں فضول ہے جب تک کہ سچی گریہ وزاری نہ ہو، خدا تعالیٰ سے ملانے والا نہ ہو۔ممکن نہیں کہ کوئی فائدہ ان کتابوں سے پہنچ سکے! میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر اور اس وحدہ لاشریک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی ان امراض کا جو مجھے لاحق ہیں کوئی علاج نہیں پایا جب تک کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے میں نے امام کو شناخت نہیں کیا مجھے کسی نے تسلی نہیں دی جب تک کہ میں نے اس کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا۔کیا میرے جیسے اور لوگ مبتلائے امراض نہ ہوں گے جو مرض مجھے لاحق ہے میں اس کی تفسیر نہ کروں گا یہاں تک کہ میں نے کبھی امام کے سامنے بھی اس کا اظہار نہیں کیا مگر میں یہ صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر میری جیسی مرض کا علاج نہ ملتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔جب میں ایسی مرض کا تریاق اگر کسی کو پاتا ہوں تو وہ یہی امام ہے تو میں کیونکر کہوں کہ اور دکھوں اور امراض کا تریاق یہ نہیں ہے۔میں اپنے جیسی استعداد اور مرتبہ کے آدمیوں کو تو کھول کھول کر بتلا دیتا ہوں کہ میں نے اپنے مرض کا تو خطا نہ کرنے والا علاج پا لیا ہے اور وہ یہی تریاق موجود ہے جو تم میں بیٹھا ہے اور جو اسی وعدہ الٰہی کے موافق آیا ہے جو اس نے میں فرمایا ہے کوئی معجزہ۔کوئی آیت۔کوئی دلیل میرے لئے