خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 660

خطابات نور — Page 16

طرف دیکھو جن کی کوئی حفاظت اور پرداخت نہیں کی جاتی ان کو کیڑے اور جانور کھاتے ہیں مگر جن کی حفاظت اور نگہداشت میں کوئی فروگذاشت نہیں کی جاتی ہے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پس اسی طرح پر یاد رکھو کہ اگر اس پودے کو خدا نے لگایا ہے اور ضرور لگایا ہے تو پھر کوئی بھی نہیں جو اس کو گزند پہنچا سکے۔وہ اس کی نگرانی میں پرورش پا رہا ہے میں یہ بات بھی کھول کر سنا دیتا ہوں کہ بعد آیات ونشانات ایمان کوئی نفع نہیں دیتا۔دیکھو مہاجر اور انصار کے ساتھ کسی اور کا نام بھی لگایا گیا ہے؟ کیوں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔جبکہ ظاہری اسباب اور حالت یہ بتلا رہی تھی کہ ابھی چند روز میں ہی خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ابوبکرؓ نے کیا دیکھا تھا؟ جو اس نے دیکھا تھا وہ دیکھو! اگرچہ مدت گزر گئی جو عمرؓ نے دیکھا تھا وہ دیکھو! الغرض خدا تعالیٰ کے دین کی حمایت وحفاظت کے لئے اس کے مقررہ قانون اور وعدہ صادقہ کے موافق ایک شخص تم میں سے ہی خلیفہ ہو کر آیا ہے چونکہ جیسا کہ آیۃ وعدہ پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ خلیفہ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر ایسی حالت بھی آجاوے کہ مختلف قسم کی شرارتیں اور افتراء پردازیاں۔دنی الطبع مخالفوں کی منصوبہ سازیاں بظاہر یہ خیال پیدا کرنے کا موقع دیں کہ بس اب خاتمہ ہے۔نہیں! مگر صادق اور اخلاص مند مومن کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ ایسے زلزلوں اور فتنوں کے وقت اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر کہ پر نظر رکھے اور اطمینان کو ہاتھ سے نہ دے کیونکہ راحت اسی میں ہے پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کو گھبراہٹ اور خوف کا سامنا بھی ہو اور یہ لازمی بات ہے کیونکر پھر سچے امن کی عافیت اور قدر معلوم نہیں ہو سکتی۔پس ایسے وقت میں ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر ایمان صادق ہو کہکیونکہ خلیفہ آتا ہی اس وقت ہے جبکہ ارتداد والحاد کا زور ہو اس لئے کئی قسم کے افکار اور گھبراہٹیں لاحق حال ہو جاتی ہیں مگر اس وقت سے نکال دینے کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے کبھی خوف اور خطرہ کے وقت گھبرانا صادق کا کام نہیں۔اور اس سے بیشتر جو مکانت دین کا وعدہ فرمایا ہے اس دین سے مراد وہی دین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور ازلی دین یہی ہے۔