خطابات نور — Page 69
ٹھہرایا گیا اور جس مرتبہ پر پہنچا تم میں سے کوئی اس سے ناواقف نہیں۔یوسف علیہ السلام کا یہ سارا تذکرہ بیان کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (یوسف :۲۳) یعنی عادت اللہ اور سنت اللہ اسی طرح پر واقع ہوئی ہے کہ کوئی محسن ہو۔کبھی ہو اس کو اس طرح پر جزا ملتی ہے جیسے یوسف علیہ السلام کو ملی۔غرض انسان محسن بنے پھر خدا اس کے ساتھ ہے اور اسے مراتب اعلیٰ ملتے ہیں۔خدا کی راہ میں تھوڑا ہو یا بہت جو کچھ خرچ کرتا ہے اور خدا کے لئے اگر کوئی وطن اور مال اور دولت یا عزت کو چھوڑتا ہے وہ بے وطن نہیں ہوتا اس کو بہترین وطن دیا جاتا ہے۔وہ بے قوم و بے یارومددگار نہیں رہتا۔اس کو بہترین قوم بہترین احباب و دوست دئیے جاتے ہیں جو چھوڑتا ہے اس سے بہتر پاتا ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر خرچ کے لئے جو اللہ کی راہ میں ہو‘ اوقات ہوتے ہیں۔مامور من اللہ جب آتا ہے اس کے ابتدائی زمانہ میں اس کی اعانت و نصرت کی عنداللہ بہت قدر اور عزت ہوتی ہے۔وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ ایک مٹھی بھر َجو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنا بہت قیمت اور قدر رکھتے ہیں مگر ایک زمانہ اس مامور کی کامیابیوں کا آجاتا ہے اس وقت سونے کے پہاڑ خرچ کرنے کے بھی اس قدر قیمت نہیں ہوگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ ہر طرف سے مخالفت کی صدائیں بلند تھیں اور مسلمان ہونے والوں کو وہ اذ ّیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں جو آج خدا کے محض فضل سے اس گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمارے مخالف ہم کو نہیں پہنچا سکتے۔اس وقت آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی َجوکی آج جو قدر ہے وہ ایک وقت آنے والا ہے اُحد پہاڑ کے برابر سونا دینے والے کی وہ قدر نہ ہوگی۔حقیقت میں یہ کیسی سچی بات ہے۔جب مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بہت وسیع ہوگیا اگر عباسیوں کے زمانہ میں ہارون رشید یا مامون رشید اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک مٹھی َجو کی دیتے تو ان کے لئے شرم اور عار کا باعث ہوتا۔مگر یہ خوب یاد رکھو جس چیزکے بدلے انہوں نے سلطنت پائی اور قیصروکسریٰ کے خزانے ان کے پائوں میں ڈالے گئے وہ ایک مٹھی َجوہی تھی جو صحابہ نے دی۔اس سے بھی صاف نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور پھر مامور کی ابتدائی بعثت کے ایام میں خرچ کرنا بہت ہی بڑا قدر و قیمت رکھتا ہے یہ تو ہے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت۔