خطابات نور — Page 68
حیثیت سے پیش کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ کو راضی رکھ کر اس کو مان کر اس کے احکام کی عزّت و عظمت کو مدنظر رکھ کر اس قربانی کا بدلہ آپ نے کیا پایا؟ وہ پایا جو دنیا میں کسی ہادی کو نہیں ملا اور نہ ملے گا۔(الکوثر :۲)کی صدا آئی؟ اور کس نے ہر چیز میں آپ کو وہ کوثر عطا کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی؟ سوچو! اور غور کرو!! میں نے مختلف مذاہب کی کتابوں ان کے ہادیوں اور یا نبیوں کے حالات کو پڑھا ہے اس لئے دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی قوم اپنے ہادی کے لئے ہر وقت دعائیں نہیں مانگتی ہے مگر مسلمان ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں ہر وقت ہر آن اللّٰھم صلّ علٰی محمد وعلٰی اٰل محمد وبارک وسلّم کی دعا آپ کے لئے کررہے ہیں۔جس سے آپ کے اور مراتب ہر آن بڑھ رہے ہیں۔یہ خیالی اور خوش کن بات نہیں واقعی اسی طرح پر ہے۔دنیا کے ہر آباد حصہ میں مسلمان آباد ہیں اور ہر وقت ان کی کسی نہ کسی نماز کا وقت ضرور ہوتا ہے۔جس میں لازمی طور پر اللّٰھم صلّ علٰی محمد پڑھا جاتا ہے۔مقرر نمازوں کے علاوہ نوافل پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور درود شریف بطور بڑی محبت کے پڑھنے والے بھی کثرت سے۔اس طرح پر آپ کے مراتب مدارج کا اندازہ اور خیال بھی ناممکن ہے۔یہ مرتبہ یہ فخر کسی اور ہادی کو دنیا میں حاصل نہیں ہوا ہے۔۹؎ حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام نے محض خدا تعالیٰ کے خوف سے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کرنے سے پرہیز کیا۔ورنہ ایک عام آدمی بھی جس کی نگاہ بہت ہی چھوٹی اور پست ہو کہہ سکتا ہے کہ اس تعلق سے وہ اس عزت سے جو اس وقت ان کی تھی زیادہ معزز اور آسودہ حال ہوتے۔اگرچہ یہ خیال ایک دنی الطبع آدمی کا ہوسکتا ہے۔مومن کبھی وہم بھی نہیں کرسکتا کہ کسی بدی اور بدکاری میں کوئی آرام آسودگی کی عزت مل سکتی ہے سچی عزت اور راحت مل سکتی ہے کیونکہ ارشاد الٰہی اس طرح پر ہے کہ ساری عزتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور پھر معزز ہونا رسول اور مومنین کے لئے لازمی ہے۔بہرحال جو کچھ بھی ہو۔کمینہ فطرت کم حوصلہ انسان عاقبت اندیشی سے حصہ نہ رکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ ان کو آرام ملتا ہے۔مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس عزت اس آرام اور دولت کو لات ماری اور خدا تعالیٰ کے احکام کی عزت کی۔قید قبول کی مگر حکم الٰہی کو نہ توڑا۔نتیجہ کیا ہوا وہی یوسف اسی مصر میں اسی شخص کے سامنے اس عورت کے اقرار کے موافق معزز اور راست باز ثابت ہوا۔وہ امین