خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 580 of 660

خطابات نور — Page 580

کہ مجھے تو یہ نہیں دکھایاگیا کہ یہ بچے۔چنانچہ اس نے وہاں سے نکل کر خوشی میں شراب پی اور شراب پی کر ایک لڑکی کو چھیڑا۔اس کے رشتہ داروں نے وہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔اس قسم کے عجائبات بہت ہوتے ہیں۔صدقات اور خیرات واقعی انسان کو بہت سے عذابوں سے بچالیتے ہیں اور یہ انسانی فطرت اور عام اقوام کے طرز عمل میں داخل ہے جو لوگ اپنے اموال میں سے خیرات کا حصہ نہیں نکالتے وہ ہلاکت کی طرف چلے جاتے ہیں۔اس لئے قرآن مجید نے کامیابی کا یہ اصل تعلیم کیا کہ مومن کامیاب ہو نے والے مومن اپنے اموال سے زکوٰۃ دیتے ہیں۔اس لئے مومن کا یہ کام ہونا چاہئے۔اپنی سر گزشت رابعہ بصری کے قصہ کامیں آپ بھی تجربہ کارہوں۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک مرتبہ میں نے نہایت عمدہ صوف لے کر دو صدریاں بنوائیں اور انہیں الگنیپر رکھ دیا۔مگر ایک کسی نے چرالی۔میں نے اس کے چوری جانے پر خدا کے فضل سے اپنے دل میں کوئی تکلیف محسوس نہ کی بلکہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر بنادینا چاہتا ہے۔تب میں نے شرح صدر سے اناللّٰہ و اناالیہ راجعونپڑھااور اس صبر کے شکریہ میں دوسری کسی حاجتمندکو دے دی۔چندروز ہی اس واقعہ پر گزرے تھے کہ شہر کے ایک امیر زادہ کو سوزاک ہوا اور اس نے ایک شخص سے جو میرابھی آشنا تھا کہا کہ کوئی ایسا شخص لائو جو طبیب مشہور نہ ہو اور کوئی ایسی دوا بتاوے جس کو میں خود بنا لوں۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس کے پاس لے گیا۔میںنے سن کر کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں صدری ہے۔میں جب وہاں پہنچاتو وہ اپنے باغ میں بیٹھا تھا میں اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا تو اس نے اپنی حالت کو بیان کر کے کہا کہ ایسا نسخہ تجویز کر دیں جو میں خودہی بنالوں۔میں نے کہا ہاں ہو سکتا ہے جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں کیلے کے درخت تھے میں نے اس کو کہا کہ کیلے کا پانی ۵تولہ لے کر اس میں ایک ماشہ شورہ قلمی ملا کر پی لو۔اس نے جھٹ اس کی تعمیل کر لی کیونکہ شورہ بھی موجود تھا، اپنے ہاتھ سے دوائی بنا کر پی لی۔میں چلا آیا۔دوسرے دن پھر میں گیا تو اس نے کہا کہ مجھے تو ایک ہی مرتبہ پینے سے آرام ہو گیا ہے۔اب حاجت ہی نہیں رہی۔میں تو جانتا تھا کہ یہ موقع محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے پیدا کر دیا ہے اور آپ ہی میری توجہ اس علاج کی طرف پھیر دی۔میں تو