خطابات نور — Page 579
تیرا دوہیں جہانیں بھلاہو کچھ کھلا دے؟ اس نے اس کو دونوں روٹیاں دے دیں۔ادھر یہ واقعہ پیش آیا کہ جب یہ شخص پھانسی کے مقام پر پہنچا اور اس کے تختہ پر قدم رکھا۔بادشاہ کو کسی نے کہا کہ اس مقدمہ کی اصلیت تو یہ ہے۔بادشاہ نے یہ سن کر فوراً سوار بھیجا کہ اس کو پھانسی نہ دی جاوے تحقیقات ہوگی اور اس طرح پر اس صدقہ نے اس کو بچا دیا۔یہ واقعات ہیں مگر ان کے ماننے کے لئے ایمان کی ضرورت ہے۔میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے ایک ہمارا محسن اور آشنا تھا وہ مارا گیا۔جس روز وہ مارا گیا اس کے ایک ملازم نے مجھے کہا کہ آج نہیں جانا میں نے انکار کر دیا راستہ میں اس کو دشمن نے مار ڈالا۔ہمارے ساتھ اس کے بڑے بڑے سلوک تھے اس کے مقدمہ کی تحقیقات ہونے لگی۔مجھے اس جج سے ملنے کا موقع ملاجس نے تحقیقات کی تھی۔اس نے بتایا کہ اس مقدمہ کی اصلیت ہم نے معلوم کر لی ہے اور کل اتنے آدمیوں کو پھانسی لگ جاوے گی۔میں اس کے پاس سے اُٹھا تو ایک غلبہ نیند کا ہوا۔میں لیٹ گیا تو میں نے دیکھاکہ جن کے متعلق پھانسی کا حکم دیا گیا تھا۔وہ چارپائی پر بیٹھے ہیں اور کچھ سکھ مجھ کو دکھا ئے گئے جو زمین پر بیٹھے تھے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کہی کہ یہ سب چھوٹ جاویں گے اور اس کے قاتل وہ سکھ ہیں جو سزا پائیں گے۔میں نے اس جج سے جاکر کہا کہ آپ کا فتویٰ جھوٹ ہے اس نے کہا کہ کل ۹بجے دیکھ لینا۔میں نے اس کو کہا کہ ہم کو بھی کسی نے بتا دیا ہے۔اس نے کہا تمہیں خبر نہیں میرے فیصلہ کی اپیل بھی نہیں وہ اب چھوٹ نہیں سکتے۔میں نے کہا کچھ ہو وہ مجرم نہیں قاتل اور ہیں اور یہ چھوٹ جاویں گے اور مرتے نہیں۔ان گرفتاروں میں بعض میرے بھی آشنا تھے۔ٹھیک ۹بجے جب کہ ان کی پھانسی کا مقررہ وقت تھا۔سیالکوٹ سے تار آگیا کہ اصل مجرم پکڑے گئے ہیں ان کو یہاں بھیج دو۔مقدمہ یہاں منتقل کر دو۔میں نے اس جج کو کہا کہ اب تو چھوٹ گئے۔اس نے کہا کچھ پرواہ نہیں مقدمہ وہاں چلاجاوے۔میں نے ایسے وجوہات لکھے ہیں کہ یہ بچ سکتے ہی نہیں۔مگر وہاں تحقیقات پر مقدمہ نئی طرز کا ہوگیا اور وہ رہا ہوگئے۔تب وہ جج کہنے لگا بڑاآشچرج ہے۔تب اس نے پوچھاکہ اب کون سزا پائے گا میں نے کہا دو سکھ ہیں۔ان مجرموں میں ایک سرکاری گواہ وعدہ معافی پر بن گیا۔وہ بچ گیا اور باقی پھانسی پاگئے۔اس پر اس جج نے کہا کہ ایک تو بچ گیا۔میں نے کہا