خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 513 of 660

خطابات نور — Page 513

اور پھر وہ ایک دو سال کا ہوتا ہے تو لوگ مبارک باد دیتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوگیا مگر غور کرو تو دو سال اس کی عمر سے کم ہوگئے اور دن بدن وہ گھٹتا جاتا ہے۔انسان گویابرف کا سوداگر ہے ہر لحظہ اس کو کم کررہا ہے اسی طرح پر انسان کی عمر گھٹتی چلی جاتی ہے تو اب سوال ہوتا ہے کہ کیا اس کی تلافی کا بھی کوئی انتظام ہے؟ خواہ عصر کے کچھ ہی معنے کرو۔یہاں بتایا ہے کہ اس کی تلافی کی صورت ہے وہ کیا؟ (العصر:۴) کچھ لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچائے جاتے ہیں وہ کون ہیں جو مومن اور اعمال صالحہ کرنے والے ہیں۔اب اگر عصر کے معنی زمانہ کے کرو تو اس سے یہ مراد ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو عصر سے تشبیہ دی ہے کیونکہ پہلے تو ایک نبی آتا تھا اور شریعت لاتا تھا اور نئی راہیں خدا کی رضامندی کی ظاہر ہوتی تھیں مگر اب تو عصر کا وقت ہے پھر سورج غروب ہوگا۔آپؐ جامع کمالات نبوت ، جامع کمالات انسانیت اور خاتم کمالات نبوت اور خاتم کمالات انسانیت تھے پھر عصر کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ نچوڑنے سے مصفّٰی چیز الگ ہوجاتی ہے اور اس کا ردی حصہ تہ نشین ہوجاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لائے وہ خالص اور تمام صداقتوں کا نچوڑ ہے۔دنیا میں کثرت سے انبیاء آئے ہیں۔۔(المؤمن:۷۹)۔پھر جو آئے ہیں تو کچھ معلوم نہیں کہ ان کی کتابیں محفوظ ہیں یا نہیں۔پھر وہ کتابیں کمی بیشی، تغیر و تبدل سے پاک ہیں یا نہیں؟غرض بیسیوں شبہات وارد ہوتے ہیں۔پھر انسانی تاریخ کا پتا نہیں۔عیسائی تو پانچ چھ ہزار برس سے پرے کچھ کرنے نہیں دیتے۔حد سات ہزار برس بتاتے ہیں۔آریوں نے چارارب کے اند رخدا کی بادشاہی کو محدود کیا ہے۔زرتشت کے اتباع نے مہاں سنکھ کے آگے سترہ صفر بڑھادئیے ہیں۔مگر ہمارے مولا کے خالق، مالک، حی ّ، قیوم اور رازق ہونے کے لئے کسی وقت کی حد بست کرنا سخت جہالت ہے۔اس لئے ہماری مقدس کتاب قرآن کریم نے کوئی تاریخ نہیں دی۔پھر نچوڑنے کے معنوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا۔(البینۃ:۴) تمام صداقتوں کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔کوئی صداقت اس پاک کتاب سے باہر نہیں۔ہم نے مختلف