خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 514 of 660

خطابات نور — Page 514

رنگوں میںدنیا کے سامنے اس سوال کو پیش کیا ہے کہ تم کوئی صداقت بتائو جو قرآن کریم میں نہ ہو۔اولاد ، بیوی، والدین، اپنی قوم اور دوسری قوموں کے تعلقات اور خدا کے ساتھ تعلقات کی کوئی جامع کتاب بتائو۔میری عمر بہت ہوگئی ہے اور مذاہب کی تحقیقات کا اتنا شوق رہا ہے کہ میں نے اپنے ہم جولیوں میں نہیں دیکھا۔پھر مدد الٰہی ایسی پہنچی کہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کے خریدنے کے لئے اموال کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا فضل کیا کہ وہ مجھے ایسے مخفی طور سے دیتا ہے کہ انسان کی طاقت نہیں کہ معلوم کرسکے۔ان تمام اسباب سے میں نے اس صداقت کو ہمیشہ لا نظیر پایا۔۔غرض اس سورۃ  میں تلافی کے چار قاعدے بتائے جن پر عمل کرنے سے انسان خسارہ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اول۔ایمان ہو۔سچی باتوں کا علم ہو۔عقائد صحیحہ ہوں۔دوم۔اس علم اور عقائد کے موافق اعمال ہوں۔سوم۔وہ سچی باتیں اور عقائد صحیحہ۔پاک تعلیمات جن پر ایمان لاتا ہے اور عمل کرتا ہے۔دوسروں کو پہنچائے اس کا نام وصیت الحق ہے۔چہارم۔چونکہ سچائی کے پھیلانے میں دشمن ضرور ہوں گے اس لئے اس کی مخالفت میں صبر و استقلال سے کام لے۔یہ چار قاعدے ہیں جو شخص ان پر عمل کرے گا وہ خسارہ سے محفوظ رہے گا۔اس نسخہ کو صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین اور اکابر اولیا و آئمہ نے استعمال کیا۔اس زمانہ میں ہماری سرکار مرزا صاحب نے تجربہ کیا لیکن جب مسلمانوں نے اس نسخہ کو چھوڑ نا شروع کیا اسی وقت سے ان پر زوال آنے لگا۔سب سے پہلے مسلمانوںنے ایسی جامع کتاب کا پڑھنا چھوڑ دیا۔ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہاں! ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں میں سے کتنے ہیں جو اس کو پڑھتے ہوں اور پھر اس کے مطلب کی تہ کو پہنچ کر عمل کرتے ہوں؟ پھر اس کے حقائق پہنچاتے ہوں اور ان حقائق کے پہنچانے میں جو تکلیفات پیش آئیں صبرو استقلال سے اس کا مقابلہ کرتے ہوں؟