خطابات نور — Page 471
سے نکل جائے گا۔پھر دوسرا خلیفہ دائود تھا (صٓ:۲۷) دائود کو بھی خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔ان کی مخالفت کرنے والوں نے تو یہاں تک ایجی ٹیشن کی کہ وہ انارکسٹ لوگ آپ کے قلعے پر حملہ آور ہوئے اور کود پڑے مگر جس کو خدا نے خلیفہ بنایا تھا کون تھا جو اس کی مخالفت کر کے نیک نتیجہ دیکھ سکے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خلیفہ بنایا۔رافضی اب تک اس خلافت کا ماتم کر رہے ہیں مگر کیا تم نہیں دیکھتے کروڑوں انسان ہیں جو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما پر درود پڑھتے ہیں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا ہی نے خلیفہ بنایا ہے۔یہ وہ مسجد ہے جس نے میرے دل کو بہت خوش کیا اس کے بانیوں اور امداد کنندوں کے لئے میں نے بہت دعا کی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں عرش تک پہنچی ہیں۔پس اس مسجد میں کھڑے ہو کر جس نے مجھے بہت خوش کیا اور اس شہر میں آکر اس مسجد میں آنے سے خوشی ہوئی ہے میں اس کو ظاہر کرتا ہوں کہ جس طرح پر آدم ودائود اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اسی طرح اللہ تعالی ہی نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں تم ان سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔اب سوال ہوتا ہے کہ خلافت حق کس کا ہے؟ ایک میرا نہایت ہی پیارا محمود ہے جو میرے آقا اور محسن کا بیٹا ہے پھر دامادی کے لحاظ سے نواب محمد علی خان کو کہہ دیں پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب کا حق ہے یا ام المومنینؓ کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حق دار ہو سکتے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا وہ اتنا نہیں سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے