خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 470 of 660

خطابات نور — Page 470

حبل اللّٰہ کو مضبوط پکڑو جب تک قرآن مجید کی ہدایات کے مطابق تمہارا عمل درآمد نہ ہو گا۔اور اس حبل اللّٰہ کو مضبوطی سے نہ پکڑے رہو گے تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس تفرقہ نہ کرو۔تم اعداء تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک ہوئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آگ کے کنارے سے نکلے ہو۔آئندہ اس آگ سے بچو۔بحث خلافت: تم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک کیا اور پھر اس کے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔اس نعمت کی قدر کرو اور نکمی بحثوں میں نہ پڑو۔میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی کسی نے کہا کہ خلافت کے متعلق بڑا اختلاف ہے حق کسی کا تھا اور دی گئی کسی اور کو۔میں نے کہا کہ کسی رافضی کو جا کر کہہ دو کہ علی کا حق تھا ابوبکرؓ نے لے لیا۔میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی یا روحانی فائدہ پہنچتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنا دیا اور تمہاری گردنیں اس کے سامنے جھکا دیں۔خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر بحث کرو تو سخت حماقت ہے۔میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے؟ اللہ تعالیٰ نے (البقرۃ :۳۱) اس خلافت آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا کہ حضور وہ مفسد فی الارض اور مسفک الدم ہے مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا۔تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جائو تو بہتر ہے۔اگر وہ ابٰی اور استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یاد رکھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادت مند فطرت اسے (البقرۃ:۳۵)کی طرف لے آئے گی اور اگر ابلیس ہے تو وہ اس دربار