خطابات نور — Page 461
آپ کے بعد ایک اور ضرورت کو میں نے مدنظر رکھا ہے اور اس سے فرصت نہیں ہوتی وہ کیا؟ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔پس اب نہ مجھے کسی لمبی تقریر کی ضرورت ہے اور نہ تحریر کی میں چند باتیں تمہاری بھلائی اور تمہارے فائدہ کے لئے کہتا ہوں اور خدا کی رضا کے لئے کہتا ہوں۔اختلاف کا نظارہ: میں دیکھتا ہوں تم یہاں تھوڑے سے آدمی ہو مگر سب کی پگڑیاںالگ کوٹ الگ جوتے جدا جدا ہیں۔طرز غذا الگ ہے چہرہ کے خط وخال قد آواز سب جدا جدا ہیں۔اس طرح پر تو یہ اختلاف اور بھی بڑھا۔پھر ہر ایک کی صحبتیں الگ، مذاق الگ، کتابوں کے مطالعہ الگ، خیالی سلسلے الگ اور اب یہ دائرہ اختلاف اور بھی وسیع ہو گیا اور اگر غور کرو تو یہ اختلاف پیدائش سے ہی شروع ہے کسی کی ماں کسی تمدن کی ہے اور کسی کی کسی رنگ کی۔میری ماں ایک اعوانی عورت تھی ان میں مردوں کی تعلیم کی طرف بھی توجہ نہ تھی۔چہ جائیکہ عورتوں کی طرف ہو مگر میری ماں خدا کے فضل سے پڑھی ہوئی تھی۔غرض ہر ایک کے ماں باپ کی تربیت جدا۔پھر محلہ کے لڑکوں کی صحبت کا اثر جدا۔اسی سے آگے چل کر سکولوں اور بورڈنگ ہائوسوں میں ایسی تعلیم کی ہوا چلتی ہے کہ ہمارے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں ،شیطان کو ہو گی۔پھر کلبوں، ڈیبیٹوں، ناولوں اور اخباروں کے موثرات۔پھر ہر مضمون پر اس قدر رسالے اور اخبارات ہوتے ہیں کہ بعض وقت انسان حیران ہو جاتا ہے مجھے بھی کتابیں پڑھنے کا جنون ہے مگر آجکل اس قدر رسالے، اخبارات اور کتابیں نکلتی ہیں کہ ان سب کا پڑھنا آسان نہیں۔پھر ہر ایڈیٹر اخبار کا فرض ہے۔خدا کا فرض ادا ہو یا نہ ہو مگر وہ قوم کے لئے ایک فرض رکھتا ہے اگر اسے ادا نہ کیا گیا تو قوم کو سخت نقصان پہنچے گا اور وہ ہلاک ہو جائے گی اور قوم نہ رہے گی وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی پر زور تحریروں سے فلاں کو ہلاک کر دیا اور فلاں کو بگاڑ دیا۔وہ اوروں کے بگاڑنے اور بنانے کے مدعی ہیں مگر اپنا کچھ نہیں بنا سکتے۔غرض ان اخبارات اور رسالوں کی اس قدر کثرت ہے کہ میں تو ان کی طرف توجہ بھی نہیں کر سکتا۔کتابیں پڑھنے کا مجھے ایسا خیال اب بھی ہے کہ لاہور میں داخل ہوا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ میری جیب میں کچھ روپیہ ہیں۔کچھ بیوی کو دے دوں گا اور کچھ بچوں کو دے دوں گا اور کچھ میرے پاس رہیں گے ان