خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 460 of 660

خطابات نور — Page 460

موجودہ حالت: مگر اب مسلمانوں کی حالت کیا ہے؟ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان نے کہا کہ وہ قلعہ فتح کر لیا۔میں حیران ہوا کہ اب قلعہ کہاں فتح ہوا۔اس کے دوست سے پوچھا تو اس نے کہا کہ’’ایک کنواری سے زنا کر لیا‘‘ افسوس اب ایک ہی کمال رہ گیا ہے۔لاہور میں اتنے اشتہار قوت باہ کے نکلتے ہیں کہ شاید سارے ہندوستان میں نہ ہوں اور ان میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔امساک اور قوت باہ کا اتنا دعویٰ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ایک اور اشتہار سیالکوٹ یا کسی اور جگہ سے نکلتا ہے’’سنیاس کا نچوڑ اور لوہے کی لاٹھ‘‘ غرض اب ساری طاقت اسی ایک طاقت کے مضبوط کرنے میں رہ گئی ہے۔غرض مجھے سیاسی امور پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں نہ میں خود سپاہی ہوں نہ سپاہی بنانے لگا ہوں۔میرا باپ شاید سپاہی ہو کیونکہ مجھے یاد ہے کہ ایک کوٹھا تیروں، کمانوں اور بندوقوں کا بھرا ہوا تھا۔میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ یہ کیوں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ نہ ہو تو کیا یہاں امن رہ سکتا ہے۔وہ قرآن بہت پڑھتے تھے اسی کا اثر ہے کہ مجھے بھی قرآن کریم سے بڑی محبت ہے۔غرض نہ میں نے پولیٹیکل لیکچر دینا ہے نہ اکانمی اور اقتصاد پر تقریر کرنی ہے۔میں مختصر سی بات کے لئے کھڑا ہوا ہوں کرسی کی ٹیک سے کام لے رہا ہوں ورنہ پائوں اجازت نہیں دیتا۔مصنّفین اسلام: پھر اسلام میں بڑے بڑ ے لکھاری (مصنّفین) موجود ہیں۔امام رازی (جنہوں نے تفسیر کبیر لکھی ہے) چھوٹی سی بات پر ہزاروں صفحے لکھ سکتا ہے۔ان کے بعد تقسیم مضمون ،سلاست بیان اور عمدہ طور پر ذہن نشین کرنے والے امام غزالی ہیں اور انہوں نے نہایت مفید اور بابرکت کتابیں لکھی ہیں جس خوبی سے انہوں نے مضامین کو کھولا ہے اس کی نظیر کم ملتی ہے میں تیرہ سو برس کے مصنّفوں میں تین کانام لے سکتا ہوں تیسرے ابن سینا ہیں اپنے فن کا بڑا لکھنے والا ہے۔ایسا احاطہ خیالی طور پر مضامین کا کرتا ہے کہ ڈاکٹر بڑی محنت اور جدوجہد کے بعد کوئی بات نکالتے ہیں تو اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔اس زمانہ میں تحریر ایک خاص فن ہے ہمارے حضرت کو اللہ تعالیٰ نے خاص توفیق بخشی تھی تحریری رنگ میں آپ کو اعجازی نشان دیا گیا تھا۔میں بھی آپ کی زندگی میں کچھ لکھ دیا کرتا تھا مگر