خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 660

خطابات نور — Page 462

سے ایک کتاب منگوائی اس کے بیسیوں نسخے کیا شاید سو کی تعداد میں ہمارے ہاں ہوں۔مگر میں نے اس کا ایک نسخہ اور منگوا لیا باوجود اس وسیع تجربہ کے میں دیکھتا ہوں کہ اگر میں کچھ کہوں تو شاید میری بات مانو یا نہ مانو۔میرے بھی اختلاف ہیں عمر، علم، مجلس، صحبت کتابوں کے مطالعہ کی کمی بیشی کے لحاظ سے ہزاروں ہی اختلاف ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ اختلاف کا نظارہ مٹ نہیں سکتا۔اختلاف تو دنیا میں رہے گا ہی (ھود :۱۱۹) مگر باوجود اختلاف کے گورنمنٹ کی تلوار نے کیسا جھکایا ہوا ہے۔تمہارے ساتھ کی قومیں ایجی ٹیشن پھیلاتی ہیں اور بعض اوقات اپنے خیال کے موافق فائدہ بھی اٹھاتی ہیں اور انارکسٹ پیدا ہوتے ہیں اور ایسی باتوں سے بزعم خود کچھ حقوق پیدا کر لئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمہارا نام ونشان مٹا دیں مگر خدا کافضل ہے کہ تم ان حرکات سے بچے ہوئے ہو اور ایسی راہوں سے الگ ہی رہنا چاہئے کیونکہ اسی میں برکت ہے۔غرض اختلافات کا سلسلہ وسیع اور اختلاف کا نظارہ دلربا ہے۔اختلاف دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔وہ رونق عالم کا موجب ہے جبکہ ایک وحدت کے نیچے ہو۔میری غرض درس کلام الٰہی ہے: پس میں تمہیں تمہارے خالق کا کلام سنانے کو کھڑا ہوا ہوں۔وہ تمہاری فطرتوں کا خالق ہے اور فطرت کا صحیح اور کامل علم رکھتا ہے۔اس خالق الفطرت نے تمہیں کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو تم نہ کر سکو بلکہ وہ احکام دئیے ہیں جو تمہاری طاقت اور مقدرت کے نیچے ہیں۔چنانچہ وہ فرماتا ہے (البقرۃ :۲۸۷)انسان کی تمکن، وسعت اور فعل اور ترک فعل کی جو مقدرت اسے حاصل ہے۔اسی وسعت ممکن کے ساتھ ہم حکم کرتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں کہتے جو کہ طاقت سے باہر ہو۔یہ بالکل جھوٹ ہو گا اگر کہہ دو کہ فلاں امر وحکم ہماری طاقت سے باہر ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی شہادت ہے۔پس اگر میں کچھ کہوں تو تم کہہ سکتے ہو کہ تم فطرت سے آگاہ نہیں۔لیکن جب میں کلام الٰہی سناتا ہوںجو خالق وعالم فطرت کاکلام ہے تو تمہارا یہ اعتراض بھی اڑ جائے گا۔افسوس ہے لوگوں