خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 447 of 660

خطابات نور — Page 447

ایک قومی بیماری کا علاج: کہ ایک بدی ہے جو لوگوں میں عام طور پر پھیلی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی بدی کرتے ہیں تو اسے تقدیر کے حوالے کر دیتے ہیں اور اگر نیکی کرتے ہیں تو اس کو اپنی خوبی جتاتے ہیں۔اس بیماری میں طبیب بہت مبتلا ہوتے ہیں۔کوئی مریض اگر بچ جاوے تو کہتے ہیں ہم نے ایسی تشخیص کی اور ایسا نسخہ تجویز کیا کہ اکسیر کی طرح مفید ثابت ہوا۔وہاں وہ شافی مطلق بن جاتے ہیں لیکن اگر مریض مر جاوے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو بڑی کوشش کی مگر کیا کریں تقدیر ہی ایسی تھی۔یہ قرآن مجید کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اس مسئلہ پر تدبر نہ کرنے سے غلطی لگی ہے ایسی بارہ آیتیں ہیں جن میں قرآن مجید نے فیصلہ کر دیا ہے۔شرعی اور کَونی امور: یاد رکھو دو قسم کے امور ہوتے ہیں۔ایک کونی ہوتے ہیں ان کونی امور میں انسان کا دخل وتصرف کچھ نہیں ہوتا اور نہ ان امور کے لئے وہ مکلف ہے اور نہ جزاوسزا کے لئے مامور جو امور شرعی ہوتے ہیں وہ انسان کے دخل وتصرف کے نیچے ہوتے ہیں اس لئے وہ ان کے کرنے یا نہ کرنے پر جزا وسزا کا مستحق ہوتا ہے اس کی چند مثالیں قرآن مجید سے سن لو۔قرآن مجید میں ایک لفظ قضٰی ہے یہ ایک تو کونی رنگ میں بولا گیا ہے جیسے فرمایا (حٰمٓ السجدۃ :۱۳) اب آسمانوں کا دو وقتوں میں بن جانا۔اس سے انسان کو کوئی تعلق نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے امر کے نیچے بن گیا پھر یہی لفظ دوسری جگہ شرعی رنگ میں فرمایا۔(بنی اسرائیل :۲۴) یہاں حکم دیا کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اب یہ فعل انسان کے دخل وتصرف کے نیچے ہے اور اگر وہ اس کی تعمیل نہ کرے گا تو مستوجب سزا ہو گا۔اسی طرح پر ایک کتبَکا لفظ ہے جو (المجادلۃ :۲۲) اس میں کونی کیفیت ہے(البقرۃ : ۱۸۴) میں شرعی صورت ہے اسی طرح پراتیان کا لفظ ہے (النساء :۵۵) کونی رنگ رکھتا ہے اور (الحشر:۸) میں شرعی حالت ہے اسی طرح ارسل کا لفظ ہے (فاطر:۱۰)