خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 660

خطابات نور — Page 448

میں تو کونی ہے اور   (الصف :۱۰) میں شرعی ہے اور  (القصص:۱۳) میں حرمت کونی ہے اور (النساء :۲۴) میں شرعی ہے اسی طرح کلمہ کا لفظ ہے ( یونس :۳۴) میں کونی ہے (البقرۃ :۱۲۵) شرعی ہے۔اسی طرح پر ارادہ کا لفظ ہے ایک جگہ فرمایا (ھود:۱۰۸) دوسری جگہ شرعی رنگ میں (البقرۃ :۱۸۶) فرمایا ہے۔غرض جب تک انسان ان الفاظ کے استعمال میں تفرقہ اور امتیاز نہیں کرتا وہ غلطی کھاتا ہے اور حدود اللہ کو توڑ کر بھی اپنے آپ کو بری ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتا ہے یہ سخت غلطی اور گستاخی ہے اس کو چھوڑ دو اور توبہ کرو۔اب میں اپنی تقریر کو اس خیال پر کہ نماز کا وقت تنگ نہ ہو جاوے اور کبھی اس خیال پر کہ تم میں سے کوئی اکتا نہ جاوے اور کبھی اس لحاظ سے کہ کوئی دوسرا نہ کہے کہ میرا وقت لے لیا ختم کرتا ہوں۔میں نے تمہیں جو کچھ کہا ہے تمہاری بھلائی کے لئے کہا ہے۔تم میں بعض نوجوان بچے ہیں جو کہتے ہیں کہ زبان کا لائسنس لینے کا حکم نہیں۔میں نے کہا اخباروں کے لٹریچر کو بدل دو اور کہا کہ دوسرے مذہب کے متعلق اپنی تحریروں کو نرم کرو۔تو کہا کہ آہن باہن تواں کوفتن۔میں نے کہا کہ دھیمی چال چلو۔مگر اب سرکاری قانون نے ان سے وہی کرایا جو میں قانون سے پہلے چاہتا تھا۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے مولوی عبدالکریم کو۔ایک مرتبہ کہا کہ نوردین بہت نرم لکھتا ہے حضرت صاحب نے فرمایا ہم بھی ان کی نرمی پر حیران ہیں۔میں مانتا ہوں کہ فطرتیں الگ الگ ہیں بہر حال تم ہماری بات کو سنو اور عاقبت اندیشی سے کام لو۔میں تم کو وصیت کرتا ہوں اوصیک بتقوی اللّٰہ۔تقویٰ اللہ اختیار کرو۔میں اسی کو وصیت کرتا ہوں متقی بن جائو گے تو دنیا میں بامراد اور کامیاب ہو جائو گے اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔تم کو ہر قسم کی تنگیوں سے نجات دے گا۔(الطلاق :۴) تم کو رزق ملے گا۔تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور بالاخر علوم حقہ تم پر کھولے جاویں گے۔اللہ تعالی کے حضور بہت استغفار کرو تا کہ گناہوں کے برے نتائج سے تم محفوظ رہو اور آئندہ گناہوں کے جذبات سے دبا دیئے جاویں۔استغفار بہت ضروری چیز ہے اور انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو جو اس کے دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے اس پر