خطابات نور — Page 446
بھی اجڑے ہوئے مکان ہیں ان سے عبرت پکڑو۔ہمیں بھی کوچ کرنا پڑے گا۔میرے پاس سیالکوٹ کا ایک شخص بیٹھا ہے میں وہاں کی تاریخ خوب جانتا ہوں وہ سالباہن کہاں ہے اور اس کے بیوی بچے کہاں؟ کیا اتنا بڑا ڈھیر خاک کا آسانی سے بن گیا ہو گا۔پس تم اپنی غلطیوں سے اپنے آپ کو برباد نہ کرو لوگوں نے تو تمہارے خلاف کفر کے فتوے لگا دیئے لیکن اگر تم نے خدا تعالی کو ناراض کر لیا تو پھر تو کچھ بھی نہ رہے گا۔نمک سے کھانا ٹھیک ہوتا ہے لیکن اگر نمک ہی گندہ ہو جاوے تو کھانا کہاں اچھا رہے گا۔تم میری باتیں سننے آئے ہو اس لئے میں جو تمہارے لئے مفید سمجھتا ہوں کہتا ہوں تمہیں خواہ پسند آوے یا نہ آوے؟ حوالہ بخدا کرتا ہوں میں کہاں تک کہتا رہوں گا جو سنتے ہیں یاد کر لیں اور جو نہیں سنتے ان کو پہنچا دیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناراض مت کرو جو اس کو ناراض کرو گے تو پھر کہیں ٹھکانا نہ ہو گا۔ہر شخص اس وعظ کو یاد رکھے اس کے پاس گھرانے اور مکان اجڑے ہوئے ہوتے ہیں میں نے صحت اور بیماری کی حالت بھی دیکھی ہے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو کہتے تھے کہ ہمارے پاس روپیہ آوے تو ہم یوں کریں ‘روپیہ آتا ہے مگر وہ نہیں کر سکتے اس لئے جو کرنا ہے آج کر لو۔میں نے ان عورتوں کو درس میں سنایا کہ عورتوں میں عادت ہوتی ہے جو غیبت کرتی ہیں دوسروں پر تہمت لگانے کی عادت رکھتی ہیں اگر خاوند کسی حسین جوان عورت سے للہ فی ا للہ بات بھی کرے تو عورت اس پر بدظنی کرتی ہے۔سوکن اگر ہو تو اسے نفرت سے دیکھتی ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ ان برائیوں کو اپنے اندر رکھ کر مت سمجھو کہ احمدی ہو گئی ہیں۔تمہیں بھی سناتا ہوں کہ احمدی صرف زبانوں سے کہہ دینے کا نام نہیں۔خدا کی کتاب پر عمل درآمد کرو تا کہ وہ راضی ہو۔میں نے مریدوں میں جاں نثار بھی دیکھے ہیں جنہوں نے میری بیماری میں دعا کی کہ ہم مر جاویں اور یہ زندہ رہے۔بعض ایسے بھی ہیں کہ کہتے کہتے تھک گیا وہ نہیں سنتے۔میں ہمیشہ ایسی نصیحت کیا کرتا ہوں کہ گویا رخصتی نصیحت ہے۔مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کسی کو پسند آتی ہے یا نہیں میں تمہاری پسند کے لئے نہیں کہتا۔بلکہ خدا کے لئے کہتا ہوں اگر کہو کہ سائنس کے مضامین میرے پاس نہیں تو میں ان کی قدر نہیں کرتا۔اب قبل اس کے کہ میں تمہیں رخصت کروں یہ نصیحت کرتا ہوں۔