خطابات نور — Page 17
(المائدۃ :۴) اسی کی ہی شان میں وارد ہے۔دین کے چند خصائص ایسے ہیں جو محدثین نے احادیث میں جمع کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ (بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون) مسلمان وہ ہے جو اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً اور کسی بنی نوع انسان کو عموماً اپنے ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ پہنچائے۔کل ایک دوست کہہ رہا تھا کہ صفیں چیرتے ہوئے بعض آدمی آگے چلے جاتے ہیں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔اکثروں نے یہ شکایت کی ہے۔یہاں تک کہ امام صاحب کی حضور تک بھی یہ شکایت پہنچی ہے کہ اس کو پیچھے ہٹا دیا۔پس ان باتوں کا بڑا بھاری لحاظ رکھو! تم بڑے ذمہ دار ہو۔تم نے کسی کے ہاتھ پر کسی کے نہیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا اقرار کیا ہے۔عسر یسر میں قدم آگے ہی بڑھاتے رہو۔کوئی شخص ثواب حاصل کرنے کے لئے کسی کا سر کچل کر آگے نہیں آسکتا۔منافقین نے جن تدابیر سے کچھ حاصل کرنا چاہا سوچو! کیا وہ پا سکے؟ ہرگز نہیں؟ قرب اسی کو ملتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ قرب دے۔پس پھر ایک عظیم الشان مسئلہ ہے کہ مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جبکہ اس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان مامون نہ ہو جاویں۔یہ بڑی خطرناک بات ہے ایسا نہ ہو کہ ان منافقوں میں شامل ہو جائو (خدا نہ کرے) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے میں تمہیں ایک بہت بڑی خطرناک بات سناتا ہوں۔یہ بھی معلوم رہے کہ ہمارا امام خدا تعالیٰ سے یہ دعا کر رہا ہے کہ خشک ڈالی مجھ سے کاٹی جاوے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں منافقوں کے حق میں کہ ہم ان کو مدینہ میں نہ رہنے دیں گے بلکہ نکال دیں گے۔غرض یہ بڑی غور طلب اور ڈرا دینے والی بات ہے میں نے اس بات کو بحکم امام بھی خصوصاً تمہارے پاس پہنچا دیا ہے میں نے مامور ہو کر کہا ہے اپنی خواہش سے نہیں۔پھر دیکھو کہ امن کے ساتھ خوف کیوں بدلا جاوے گا؟ اسی لئے کہ وہ پرستار الٰہی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی عبادت واطاعت میںکسی دوسرے کا بھی حصہ ہے تو یاد رکھو کہ وعدہ الٰہی کے نیچے نہیں آسکتے۔بالآخر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یعنی باوجود ان باتوں کے بھی اگر کوئی نہیں مانتا اور انکار کرتا ہے تو وہ دشمن اسلام اور فاسق ہے۔پس اب اس نعمت کی قدر